بھنگ میں چھُپے طالبان جنگجو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں کینیڈا کی فوج کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کو اپنے ٹھکانوں سے باہر نکالنا اس لیئے مشکل ہو رہا ہے کہ وہ بھنگ کے وسیع جنگلات میں چھپ جاتے ہیں۔ کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں تقریر کرتے ہوئے جنرل رِک ہلیئر نے کہا کہ دس فٹ اونچے بھنگ کے گھنے کھیت گرمی کو ایک دم جذب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے فوجیوں کے لیئے ’تھرمل‘ آلات سمیت ان میں گھسنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ’آپ کو بہت خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ جنگجو کھبی ان کھیتوں کے اندر گھس جاتے ہیں اور کبھی نکل آتے ہیں۔‘ جنرل کے مطابق ان جنگل نما کھیتوں کو جلانا بھی ممکن نہیں کیونکہ بھنگ کے پودوں میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ رائٹرز نیوز ایجنسی نے جنرل رِک ہلیئر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کی کم از کم ایک بکتر بندگاڑی میں بیٹھے فوجیوں نے اس کا حل یہ نکالا تھا کہ انہوں نے جنگجوؤں پر حملے سے قبل گاڑی کو بھنگ کے پودوں میں چھپا لیا تھا۔ واضح رہے کہ کینیڈا کے تئیس سو سے زائد فوجی افغانستان میں تعینات ہیں اور سنہ دو ہزار دو سے اب تک اس کے کم از کم چالیس فوجی وہاں مارے جا چکے ہیں۔ کینیڈین جنرل نے کہا ’ ہم نے بھنگ کے جنگلات کو سفید گندھک (فاسفورس) سے جلانے کی کوشش بھی کی لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ پھر ہم نے ان پر ڈیزل ڈالا مگر اس سے بھی بات نہ بنی۔ در اصل ان دنوں بھنگ کے پودوں میں پانی اتنا زیادہ ہے کہ ہم انہیں جلا نہیں پا رہے۔‘ جنرل ہلیئر کے مطابق انہوں نےنوٹ کیا کہ کچھ جنگلات کے کنارے پر واقع ایک دو پودوں نے آگ پکڑ بھی لی لیکن اس سے ایک مزید مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ’ہوا یہ کہ ہمارے کچھ اور فوجی جو جنگل کی اس جانب کارروائی کر رہے تھے جس طرف جلتے پودوں کا دھواں جا رہا تھا ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ لگتا ہے پودے جلانے والی حکمت عملی بھی ٹھیک نہیں تھی۔ جنرل کے مطابق ان کے ایک جوان نے کہا ’سر، تین سال پہلے جب میں فوج میں بھرتی نہیں ہوا تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن مجھے کہنا پڑے گا ’ برا ہو بھنگ کا۔‘ بھنگ، جسے دنیا میں زیادہ تر ملکوں میں ایک غیر قانونی نشہ آور چیز سمجھا جاتا ہے سنٹرل ایشاء میں ہر جگہ ایک خود رو پودا ہے اور اسے عام طور پر جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے۔ ادھر کینیڈا کی پولیس کو بھی کچھ ایسے ہی مسئلہ کا سامنا ہے اور وہ بھی نشے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے کیونکہ ملک کے اندر بھی نشہ آور مواد کی پیداوار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں کابل میں طالبان کا خوف 27 September, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک24 September, 2006 | آس پاس 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس نوا کے قصبے پر طالبان کا قبضہ؟18 July, 2006 | آس پاس طالبان کو شکست ہو گی: رمزفیلڈ11 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||