BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 October, 2006, 00:47 GMT 05:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر
ملا عمر
ملا عمر نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ حامد کرزئی کا کنٹرول صرف دارالحکومت کابل تک ہے
طالبان رہنما ملا محمد عمر نے دھمکی دی ہے کہ آئندہ مہینوں کے دوران افغان تشدد میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا۔

ملا عمر کا یہ پیغام ایک ویب سائٹ کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔ اس پیغام میں یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ افغانستان کے موجودہ صدر کو اسلامی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کے ’انصاف کا سب کو علم ہے‘۔

ملا عمر نے اقوام متحدہ اور نیٹو کی مذمت کرتے ہوئے اپنے حمایوں پر زور دیا ہے کہ وہ متحد رہیں چاہے وہ کسی بھی مدرسے سے تعلق رکھتے ہوں۔

اب تک اس پیغام کسی آزاد ذریع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

2001 میں امریکی حملے کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملا عمر کے ٹھکانے کا کسی کو علم نہیں تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں یا پاکستان میں۔

اس وقت افغانستان میں نیٹو افواج کو جنوب اور مشرقی افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا ہے۔

ویب سائٹ پر یہ پیغام اسلامی مہینے رمضان کے خاتمے اور عید الفطر کے سلسلے میں جاری کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی اردو کے انوار الحسن سے بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ’اس پیغام کا ایک مقصد تو افغان عوام پر اپنی موجودگی ثابت کرنا ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کا حوصلہ بندھانا ہے جو افغانستان میں جنگ لڑ رہے ہیں یا اپنے تئیں جہاد کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اعلان اس وقت آیا ہے جب نیٹو کمنڈر یہ توقع کر رہے ہونگے کہ ردیوں میں طالبان حملے کم ہو جائیں گے اور اس دوران تعمیر نو کے کام کر کے افغان عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ سردیوں کی وجہ سے حملوں میں کمی آنے کا امکان کم ہے کیونکہ خاص طور پر ہلمند، اروزگار، قندھار اور زابل میں جہاں طالبان کی حمایت زیادہ ہے، سردی قدرے کم پڑتی ہے کیونکہ کابل اوثر شمالی علاقوں کے کے مقابلے میں یہ علاقے میدانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سردیوں کے دوران بھی ان علاقوں میں حملے کم نہیں ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
ملا عمر کو رابطے کی پیشکش
09 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد