BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 May, 2006, 20:46 GMT 01:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نہیں ملا داد اللہ گرفتار نہیں ہوئے‘
جنوبی افغانستان میں امریکی سالاری کے تحت موجود فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کمانڈر ملا داداللہ کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے افغان حکام نے عندیہ دیا تھا کہ انہوں نے طالبان کمانڈر کو پکڑ لیا تھا۔ داد اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنوبی افغانستان میں طالبان کے فوجی رہنما ہیں۔

ملا داد اللہ امریکی انتظامیہ کی مرتب کردہ مطلوب افراد کی فہرست میں ایک اہم شخص ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ طالبان کے ایک سینئر رہنما کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن وہ ملا داد اللہ نہیں ہیں۔

بی بی سی کو ٹیلی فون پر کہا گیا
 ممکن ہے کہ حکام نے ہزاروں بے گناہوں میں سے کسی ایک کو غلطی سے حراست میں لے لیا ہو اور یہ شخص ایسا ہو جس کے جسم کا کوئی عضو ضائع ہو چکا ہو جیسا کہ میری ٹانگ ضائع ہو چکی ہے
ممکنہ طور پر ملا داد اللہ

میجر جمیز یانٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ سچ ہے کہ ہم نے گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کیا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ رہنما ملا داد اللہ سے کافی حد تک مشابہت رکھتے ہیں لیکن میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ گرفتار ہونے والے رہنما ملا داد اللہ نہیں ہیں۔‘

جمعہ کو حکام نے کہا تھا کہ طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کو جنوبی صوبے قندھار سے پکڑا گیا تھا۔ لیکن اس دعوے کے بعد ایک شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملا داد اللہ ہیں اور کسی کی حراست میں نہیں ہیں۔

پاکستان میں بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار کو دو مرتبہ ٹیلی فون کر کے اس شخص نے کہا تھا کہ وہ ملا داد اللہ ہیں اور یہ کہ وہ قندھار اور ہلمند کے صوبوں میں طالبان کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس علاقے میں افغان اور غیر ملکی فوجیوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ ’ممکن ہے کہ حکام نے ہزاروں بے گناہوں میں سے کسی ایک کو غلطی سے حراست میں لے لیا ہو اور یہ شخص ایسا ہو جس کے جسم کا کوئی عضو ضائع ہو چکا ہو جیسا کہ میری ٹانگ ضائع ہو چکی ہے۔‘

سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی یلغار سے قبل ملا داد اللہ طالبان کی دس رکنی قیادت کرنے والی کونسل کے رکن تھے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملا داد اللہ کی خبر سے کابل میں سنسی پیدا ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں
ملا داد اللہ کون ؟
19 May, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد