افغانستان میں قحط کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں بیس لاکھ تک لوگوں کو اس سال موسم سرما میں خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ اور افغان حکومت نے کہی ہے اور انہوں نے اس صورتحال سے بچنے کے لیے مزید امداد کی اپیل کی ہے۔ پہلے 76 ملین ڈالر امداد کی اپیل کی گئی تھی لیکن اب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب مزید 40 ملین ڈالر کی ایمرجنسی اپیل کی جا رہی ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے افغانستان میں گندم کی پیداوار ضرورت سے کم ہوئی ہے۔ جنوبی افغانستان کے سڑسٹھ دیہات میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق خشک سالی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں کاشتکاروں کی پوریفصل خراب ہو گئی ہے۔ امدادی تنظیم ’کرسچن ایڈ‘ نے تین ماہ پہلے خبردار کیا تھا کہ جنوبی افغانستان میں قحط کا امکان ہے اور اس وقت 76 ملین ڈالر کی امدادی اپیل کی گئی تھی۔ تاہم اب تک اس رقم کا نصف حصہ بھی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ یہ صورتحال جنوبی افغانستان میں طالبان اور نیٹو افواج کے درمیان لڑائی میں اضافے کے وقت پیش آئی ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑائی کے علاوہ خوراک کی کمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ خوراک کے بجائے پوست کی کاشت کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: خشک سالی کا سامنا26 July, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||