افغانستان: خشک سالی کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانی زبان میں بولے جانے والے الفاظ ’دیہہ سبز‘ کا مطلب گرین ولیج یا ہرا گاؤں ہے لیکن اس سال کابل کے قریب اس گاؤں میں خاک اور دھول کے سوا کچھ نہیں ہے۔ موسم سرما میں برف باری کے بعد سے دریاؤں کے کنارے خشک پڑے ہیں اور فصلوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور موسم بہار کی بارشیں بھی توقع سے کہیں کم ہوئی ہیں۔ ظہیر نے بتایا کہ ایسا خشک سالی کی وجہ سے ہوا ہے۔ کنوؤں میں بھی بہت ہی کم پانی ہے جو ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئیے کافی نہیں ہے۔ ظہیر فصلوں کو پانی دینے کے لیئے زراعتی نالوں سے جنریٹر کی مدد سے پانی کھینچتے ہیں جو کسی حد تک ان کی تربوز کی فصل کے لیئے کافی ہے لیکن ڈیزل کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ظہیر کو شکایت ہے کہ ان کی مالی حالت بدتر ہوتی جار ہی ہے۔ خشک سالی سے جانور بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کابل کی مرکزی منڈی مویشیاں کے، جہاں گائے، بھینسیں اور اونٹ وغیرہ فروخت کے لیئے لائے جاتے ہیں، تاجروں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بہت سے چرواہے اپنے مویشیوں کو فروخت کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ خشک سالی کی وجہ سے کہیں جانور مر ہی نہ جائیں۔
ایک تاجر شیر شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی تین گائیں مر گئیں اور اب ان کے پاس صرف دو ہی بچی ہیں۔ پانی اور گھاس کا مسئلہ الگ ہے۔ افغانستان سات سال سے جاری قحط سالی سے ابھی نکل ہی پایا تھا کہ نئی خشک سالی نے صورت حال کو بدتر بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال کی خشک سالی کی وجہ سے دو اعشاریہ پانچ ملین افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس سے قبل ورلڈ فوڈ پروگرام نے بتایا تھا کہ اندازہً چھ اعشاریہ پانچ افراد پہلے ہی موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خشک سالی کا شکار علاقے زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے ہیں۔ زابل صوبے میں ہزاروں خاندان پانی نہ ہونے کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر علاقے سے جا چکے ہیں۔ صوبے کے دارالحکومت قلات میں سکونت اختیار کرنے والے محمد ولی نے بتایا کہ جہاں سے وہ آئے ہیں وہاں سخت قحط سالی تھی۔ فصلیں تباہ ہوگئیں اور خاندان علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو جا چکے ہیں۔ ایک زمیندار کریم اللہ نے بتایا کہ زراعتی نالہ خشک ہو گیا ہے اور فصلوں کے لیئے پانی ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نئے ڈیم اور کینال بنانے میں ہماری مدد کرے۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی حصوں میں آباد لوگوں کی مدد کرنا اس لحاظ سے بھی بہت مشکل ہے کیونکہ یہ علاقے گزشتہ کئی ماہ سے پر تشدد کارروائیوں کا گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں اتحادی فوج طالبان جنگجوؤں سے لڑائی میں مصروف ہے۔ طالبان کے سابق کمانڈر اور موجودہ رکن پارلیمان ملا عبدالسلیم راکٹی کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں نے حکومت کی جانب سے امدادی کارروائیوں کو یا تو مکمل طور پر بند کر دیا ہے یا انہیں تباہ کردیا ہے۔ افعانستان کے محکمہ انسداد منشیات کے ڈائریکٹر سعید سلیم کا کہنا تھا کہ خشک سالی پوست کی کاشت کا ایک بڑا محرک ہے کیونکہ غریب خاندان ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیئے پوست کاشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ کسان بڑے پیمانے پر پوست کاشت کر رہے ہیں کیونکہ خشک سالی میں پوست بہترین کاشت ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں پوست کی کاشت، تشویشناک اضافہ24 September, 2004 | آس پاس ’طالبان پوست کی کاشت کے ذمہ دار‘ 29 May, 2006 | آس پاس قندھار بمباری: عینی شاہدین کے بیان22 May, 2006 | آس پاس افغانستان: جھڑپ میں چار ہلاک 28 May, 2006 | آس پاس افغانستان: حملوں میں تیس ہلاک19 June, 2006 | آس پاس افغانستان: 19 مشتبہ طالبان ہلاک13 July, 2006 | آس پاس ’افغانستان: چھبیس طالبان ہلاک‘15 July, 2006 | آس پاس افغانستان: تشدد میں 22 ہلاک23 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||