’افغانستان: چھبیس طالبان ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں لڑائی میں چھبیس مشتبہ طالبان ہو گئے ہیں۔ ملک میں موجود غیر ملکی فوجوں کے ترجمان نے بتایا کہ ہلمند میں ایک فضائی حملے میں دس مزاحمت کار مارے گئے۔ دیگر افراد ملک کے دوسرے حصوں میں مارے گئے۔ دریں اثناء افغانستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم افغان انڈِپنڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں شہریوں کی ہلاکت میں حالیہ دنوں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن کے اندازے کے مطابق اس سال افغانستان میں چھ سو شہری پر تشدد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ کمیشن کے مطابق معصوم افغان مردوں، خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ’اتحادیوں‘ کے فضائی حملوں کا نشانے بنی ہے۔ حکومت نے گزشتہ دو ہفتوں میں دو شہروں میں حملوں کے دوران شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ان میں سے اکثریت ’طالبان‘ کے خودکش حملوں، سڑک کے کنارے نصب بموں اور پیشہ ور قاتلوں کا نشانہ بنے ہیں۔ افغانستان میں موجود ’اتحادیوں‘ کا کہنا ملک کے جنوب میں جاری لڑائی مئی کے وسط میں شروع ہونے والے ’آپریشن ماؤنٹین تھرسٹ‘ کا حصہ ہے۔ افغانستان کے جنوبی صوبے ارزگان میں جمعہ کے بعد سے اکتیس مزاحمت کار ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے سلامتی کی صورتحال کی خرابی کی وجہ سے حقیقی صورتحال معلوم کرنا کسی کے لیئے بھی مشکل ہو گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’چالیس مشتبہ طالبان ہلاک‘10 July, 2006 | آس پاس افغانستان: 19 مشتبہ طالبان ہلاک13 July, 2006 | آس پاس برطانیہ: ہلمند میں حملہ ضروری تھا15 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||