برطانیہ: ہلمند میں حملہ ضروری تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجود برطانوی فوج نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت اس نے امریکی بمبار طیاروں سے صوبہ ہلمند میں مبینہ طالبان جنگجوؤں پر بمباری کے لیے کہا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس بمباری میں کئی عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے لیکن برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ ایسی کسی ہلاکت کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ صوبہ ہلمند کے قصبے نوزاد کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک بمبار جہاز نے کم از کم تین بم گرائے جس سے ایک سکول اور دکانیں تباہ ہو گئیں۔ قصبے میں واقع صوبائی حکومت کے مرکزی دفاتر کی حفاظت کی ذمہ داری گزشتہ ایک ماہ سے برطانوی فوج کے پاس ہے۔ قصبے کی ڈیڑھ سو دکانوں پر مشتمل مارکیٹ کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو چکا ہے اور جن جگہوں پر بم گرے وہاں پر گہرے گڑھے بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں تعمیر ہونے والے سکول کی دو مزلہ عمارت بھی بمباری کا براہ راست نشانہ بنی اور اس کی سیمنٹ سے بنی چھت منہدم ہو چکی ہے۔ برطانوی فوجیوں کا کہنا ہے طالبان سکول کی عمارت کو راکٹ داغنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ شہریوں کے مطابق انہیں نہ تو طالبان اور نہ ہی اتحادی فوج نے خبرادر کیا کہ اس مقام پر لڑائی یا بمباری ہونے والی ہے۔گاؤں کے دکاندار حاجی احمد نے بی بی سی کو بتایا ’ ہمیں مرنے والوں کی صحیح تعداد کا نہیں پتہ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ملبے کے نیچے لاشیں موجود ہیں اور یہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو ان لاشوں کو نکالنے میں ہماری مدد کرے۔ کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘ مقامی سکول میں کام کرنے والے نعمت اللہ نامی شخص کے مطابق ’ چونکہ سکول تباہ ہو چکا ہے اس لیئے اب کوئی طالبعلم یہاں نہیں آ سکتا۔ ہم عالمی برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سکول کی تعمیر نو کرے تاکہ ہمارے بچے پڑھ سکیں اور ہمارا ملک ترقی کر سکے۔ ‘ ’اگر آپ سکول پر بم گرا کر سکتے ہیں تو آپ ہر عمارت تباہ کر سکتے ہیں۔‘ نوزاد کا قصبہ علاقے میں موجود برطانوی فوج کی ایک چھوٹی تعداد اور اس پر چند سو میٹر دور سے راکٹ پھینکنے والے طالبان جنگجؤوں کے درمیان ایک سرحد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ علاقہ غیر ملکیوں کے لیے نہایت خطرناک ہے، یہاں تک کہ جب بی بی سی کے مقامی رپورٹر نے یہاں پر جاری لڑائی کی تفصیل جاننے کی کوشش کی تو اس پر بھی فائرنگ کی گئی۔ برطانوی فوج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ طالبان گزشتہ دو ہفتوں سے ان پر حملے کر رہے تھے اور قریب ہی تھا کہ وہ فوجی اڈے پر دھاوا بول دیتے کہ برطانوی فوج نے امریکی بمبار طیاروں کی مدد طلب کر لی۔ اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں پچاس سے دو سو تک افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن تعداد کی تصدیق کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ صوبہ ہلمند کے گورنر کا کہنا ہے کہ بمباری میں صرف انیس افراد ہلاک ہوئے اور وہ سب کے سب طالبان جنگجو تھے۔ برطانوی فوج کے مقامی کمانڈر کرنل چارلی کے مطابق عام شہریوں کے مارے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ کہ اپنے فوجیوں کی زندگی بچانے کی خاطر امریکی بمبار طیاروں کو بلانا ضروری تھا۔ افغانستان میں برطانوی فوج یہ تسلیم کرتی ہے کہ ملک میں سکیورٹی اور ترقی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب وہ لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کریں لیکن ساتھ ہی وہ ہمیشہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔ اور جنگ کے دوران یہ توازن قائم رکھنا ہی شاید سب سے مشکل کام ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: 19 مشتبہ طالبان ہلاک13 July, 2006 | آس پاس افغانستان: طالبان ہلاکتوں کے دعوے03 July, 2006 | آس پاس افغانستان میں ’65 طالبان ہلاک‘24 June, 2006 | آس پاس افغانستان: بس دھماکہ، دس ہلاک15 June, 2006 | آس پاس افغانستان: امریکی فوجی قافلے پر حملہ06 June, 2006 | آس پاس افغانستان: جھڑپ میں ’طالبان‘ ہلاک 03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||