افغان کمانڈروں میں لڑائی: 32ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے دو کمانڈروں کے درمیان شدید لڑائی میں 32 جنگجو اور شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایک افغان کمانڈر نے ایک ایسے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جو دوسرے کمانڈر کےزیر انتظام تھا۔ بی بی بسی کے نامہ نگار کفایت اللہ نے بتایا کہ کمانڈر امان اللہ خان ضلع شنگن میں ہوئے تو کمانڈر عبداصبور کے بیٹے نے ان پر حملہ کر دیا۔ کمانڈر عبدالصبور کو ایک ہفتے قبل ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں شدید جھڑپ ہوئی جس میں تقریباً بتیس افراد ہلاک ہوئے جن میں جنگجو بھی شامل ہیں اور عام افغان شہری بھی۔ کفایت اللہ کے مطابق افغان پولیس کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں چالیس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ جھڑپ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔ واضح رہے کہ افغان حکومت اور امریکیوں نے افغانستان میں اسلحہ واپس لینے کے لیے مہم چلائی تھی جس پر ایک ملین ڈالر کے لگ بھگ اخراجات کیے گئے لیکن اس کے باوجود کمانڈروں کے پاس اسلحہ ہے اور وہ اسے واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسلحہ واپس لینے کی مہم اس لیے کامیاب نہیں ہو سکی کہ کمانڈر یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ اسلحہ واپس کر دیں گے تو طالبان حملے کے خلاف اپنا دفاع کیسے کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان ایسی صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسے مواقع سے لوگوں کو یہ احساس بھی دلاتے ہیں کے ان کے زمانے میں اس طرح کی باہمی لڑائیاں نہیں ہوتی تھیں۔ | اسی بارے میں ’افغانستان نازک موڑ پر ہے‘09 October, 2006 | آس پاس تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس افغانستان:7مشتبہ شدت پسند ہلاک24 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||