افغانستان:7مشتبہ شدت پسند ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کی صبح ایک چھاپے میں القاعدہ کے سات مشتبہ کارکنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایک بچہ اور ایک خاتون بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’جب اتحادی اور افغان افواج نے کنڑ کے قریب ایک گاؤں میں ایک مکان پر چھاپا مارا تو ان پر فائرنگ شروع ہو گئی۔‘ بیان کے مطابق یہ ہلاکتیں جوابی فائرنگ میں ہوئیں کیونکہ بقول اس امریکی بیان کے ’القاعدہ کے جنگجؤوں نے اپنی غیر قانونی اور غیر اخلاقی کارروائیوں کو بچانے کے لیئے بچوں اور خواتین کو سامنے رکھا ہوا تھا۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کی عمر دس اور بارہ سال کے درمیان تھی۔ اس چھاپے میں چار افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ اتحادی اور افعان افواج کا کوئی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ افغانستان کی شمال مشرقی سرحد کے قریب واقع کنڑ کے علاقے میں طالبان اور حکومت مخالف جنگی سردار گلبدین حکمت یار کے حامی سرگرم ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور مبصرین کے مطابق یہ پانچ سال پہلے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان میں سب سے زیادہ پرتشدد دور ہے۔ | اسی بارے میں کُنڑ میں اتحادی فوجی ہلاک18 August, 2006 | آس پاس افعانستان : نیٹو فوجی ہلاک23 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||