نیٹو بمباری: ’درجنوں شہری‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کے خلاف نیٹو افواج کی حالیہ کارروائی میں عام شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد ماری گئی ہے۔ یہ بات علاقے سے شہریوں اور مقامی اہلکاروں نے بتائی ہے۔ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ انہیں ان رپورٹوں پر بہت تشویش ہے جن میں بتایا گیا ہے نیٹو بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت ساٹھ سے زائد شہریوں کو ہلاک ہو گئے ہیں۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ قندھار میں پنجوئی کے علاقے میں اس سلسلے میں افغان فوج کے ساتھ تفتیش میں شامل ہوگا۔ اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسے 60 تک کی سویلین ہلاکتوں کی خبر ملی ہے لیکن وہ ابھی ان کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔ نیٹو نے پہلے کہا تھا کہ اس کارروائی میں 48’ طالبان‘ ہلاک ہوئے تھے۔
بسم اللہ افغانمال نے خبر رساں ادارے اے پی سے کہا کہ ’حکومت اور اتحادی فوج نے ہمیں کہا تھا کہ اس علاقے میں کوئی طالبان باقی نہیں رہے۔اگر طالبان اب نہیں ہیں تو یہ ہمارے علاقے پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘ اتحادی افواج نے پچھلے ماہ صوبہ قندھار میں آپریشن میڈیوسا‘ نامی کارروائی میں پانچ سو تک طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ پچھلے ہفتے قندھار اور ہلمند میں نیٹو کی کارروائیوں میں 21 سویلین ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||