BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 November, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان عدم استحکام، امن کے لیے خطرہ
مندوبین
کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر مملکت حنا ربانی کھر کر رہی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کے افغانستان میں عدم استحکام علاقے میں امن اور خوشحالی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دلی میں افغانستان کی معاشی خوشحالی کی کوششیں تیز کرنے کے لیے ہونے والی ہمسایہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے ان کی حکومت تعمیر نو کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن انتہا پسندی اور مسلح گروہوں کی پر تشدد کاروائیوں سے نمٹنا آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

دلی میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان اور ایران سمیت خطے کے کئی دوسرے ممالک سے حکومتی نمائندے بھی شریک ہیں۔

صدر کرزئی نے کہا ’امن و امان کی نازک صورتحال، نقل و حمل کی ناکافی سہولتیں اور پالیسیوں میں غیر مستقل مزاجی جیسے عوامل علاقائی معاشی تعاون میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ (افغانستان میں) معیشت کی ترقی کی صورت میں طالبان کی

معاشی ترقی
 معیشت کی ترقی کی صورت میں طالبان کی حمایت میں کمی واقع ہوگی اور بہت کم کسان افیون کی کاشت کریں گے۔
حامد کرزئی
حمایت میں کمی واقع ہوگی اور بہت کم کسان افیون کی کاشت کریں گے۔

اخبار گارڈین کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ ٹام کوئنگز کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے اعتماد، گڈ گورننس اور افغان فوج کی مدد کے بغیر نیٹو فورسز طالبان کو شکست نہیں دے سکتیں۔

ان کا کہنا تھا ’نیٹو فورسز بہت زیادہ خوش فہمی کا شکار ہیں لیکن انہیں معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’آپ کو لوگوں کے دل جیتنے ہونگے اور یہ صرف گڈ گورننس، بااخلاق پولیس، پاکستان سے بہتر سفارتی تعلقات اور معاشی ترقی سے ہی ممکن ہے‘۔

نیٹو فورسز کو افغانستان کے جنوبی حصے میں طالبان ہتھیار بندوں کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس سال مسلح جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے چار ہزار افراد میں سے ایک چوتھائی عام شہری ہیں اور تصادم کے زیادہ تر واقعات حشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے خوراک کے ترجمان عباداللہ عبادی نے جمعہ دیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ موسم سرما میں تیس لاکھ سے زائد افغان عوام کو خوراک کی

شہری ہلاک
 اس سال مسلح جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے چار ہزار افراد میں سے ایک چوتھائی عام شہری ہیں
فراہمی کے لیے ان کے ادارے نے جو فنڈز طلب کیئے تھے ان میں سے اب تک صرف ایک تہائی ہی میسر ہوسکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’امداد میں تاخیر سے ضرورت مند لوگ بری طرح متاثر ہونگے، اس حوالے سے ہمیں شدید پریشانی لاحق ہے۔ اگر ہم بروقت خوراک فراہم نہ کر سکے تو ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہونگی‘۔

انہوں نے کہا کہ جن تیس لاکھ لوگوں کی ذمہ داری عالمی ادارہ خوراک نے اٹھائی ہے ان کے علاوہ مزید اتنے ہی لوگ افغانستان میں خوراک کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہیں، جبکہ تقریباً بیس لاکھ لوگ ان کے علاوہ ہیں جو ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں میں در پیش خشک سالی سے متاثر ہیں۔

دریں اثناء افغانستان کے بعض مغربی علاقوں میں آئے حالیہ سیلاب کی وجہ سے پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
طالبان کے ساتھ ایک سفر
25 October, 2006 | آس پاس
نیٹو مِشن کو درپیش مسائل
05 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد