افغان صورتحال پر کرزئی دکھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان بچے، عورتیں اور مرد صرف پاکستان سے آنے والے ’دہشت گردوں‘ کے ہاتھوں ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی فوج کی کارروائیوں میں بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ حامد کرزئی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی 58 سالگرہ کے موقعے پر خطاب کر رہے تھے۔ افغانستان کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے اور افغان قوم کی بے بسی پر صدر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اس قابل نہیں ہے جو پاکستان سے آنے والوں کو روک سکے یا وہ بین الاقوامی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر کوئی بات کر سکے۔ انہوں نے کہا ان دونوں عوامل کی وجہ سے افغان بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔ افغانستان کے حکام اکثر پاکستان پر طالبان کو پناہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔ تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس نے سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: درجنوں طالبان ہلاک 04 December, 2006 | آس پاس قندہارخود کش حملہ، چھ اہلکار ہلاک06 December, 2006 | آس پاس ’عراق سٹڈی گروپ رپورٹ نامنظور‘10 December, 2006 | آس پاس ’طالبان کی ہلاکتوں کا دعوی غلط تھا‘10 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||