’طالبان کی ہلاکتوں کا دعوی غلط تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات نیٹو کی افواج نے اعتراف کیا ہے کہ اس مہینے کے شروع میں جنوبی افغانستان میں ایک کارروائی میں اسی طالبان کی ہلاکتوں کے بارے میں کیا گیا دعوی غلط تھا۔ نیٹو کی طرف سے جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں سات یا آٹھ طالبان ہلاک ہوئے تھے۔ جنوبی افغانستان کے علاقے ہلمند کے موسیٰ قلعہ میں ہونے والی اس کارروائی میں کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار الیسٹر لیتھ ہیڈ کا کہنا ہے کہ اس سال افغانستان میں تشدد کے واقعات میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں صحیح تعداد کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہے۔ خودکش حملوں، فضائی حملوں اور نیٹو اور طالبان کے درمیان مسلح جھڑپوں سممیت تشدد کے ان واقعات میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں شہریوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ | اسی بارے میں بھنگ میں چھُپے طالبان جنگجو15 October, 2006 | آس پاس شمالی وزیرستان: اب طالبان کے ٹیکس24 October, 2006 | آس پاس طالبان کے ساتھ ایک سفر25 October, 2006 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس افغانستان: درجنوں طالبان ہلاک 04 December, 2006 | آس پاس ہلمند میں ہلاکتیں کم ہوئیں: طالبان06 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||