BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 January, 2007, 08:21 GMT 13:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
150 مزاحمت کار ہلاک: نیٹو
گزشتہ سال نیٹو افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا رہا
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغان صوبہ پکتیکا میں ’150 مزاحمت کار‘ مارے گئے ہیں۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی پاکستانی انٹیلیجنس سروِس کی مدد سے کی۔

جمعرات کی صبح نیٹو کے بیان میں بتایا گیا کہ یہ افراد بدھ جمعرات کی شب پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے جب افغان اور نیٹو افواج نے کارروائی کی۔

نیٹو کے بیان کے مطابق ’ان مزاحمت کاروں کو سرحد پار کرنے اور علاقے میں افغان فوج اور نیٹو فورسز کے خلاف کارروائی کرنے سے قبل پاکستان میں جمع ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔‘

نیٹو کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی اندازوں کے مطابق 150 تک مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔‘ نیٹو کے بیان سے قبل افغانستان کی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ لگ بھگ 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

غیرجانبدار ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ابھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اس کارروائی کے دوران کسی نیٹو یا افغان فوجی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ اتحادی افواج نے دراندازوں کے دو گروہوں پر زمینی اور فضائی حملے کیے جو کئی ٹرکوں میں اسلحے اور بارود بھرکر افغانستان میں داخل ہوچکے تھے۔

افغانستان میں اتحادی افواج کی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت ایک حساس موضوع ہے۔ گزشتہ ہفتے نیٹو نے تسلیم کیا تھا کہ گزشتہ سال کی اس کی سب سے بڑی غلطی عام شہریوں کی ہلاکت تھی۔

دریں اثناء نیٹو افواج کے ایک کمانڈر ڈیوڈ رچرڈس نے کہا ہے کہ وہاں افغانستان میں گزشتہ چند ماہ میں تشدد کے واقعات میں خاصی کمی ہوئی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور نیٹوافواج کی اپنے اپنے علاقوں میں کاروائیوں کے نتیجے میں یہ کمی آئی ہے۔

جنرل رچرڈس نے اسلام آباد میں بیسویں سہ فریقی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں صورت حال بہتر ہورہی ہے۔

سہہ فریقی اجلاس میں پاکستان کے وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل احسن سلیم حیات اور افغانستان کی نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بسم اللہ بھی شریک ہوئے مگر انھوں نے اخبار نویسوں سے کوئی بات نہیں کی۔

برطانوی فوج کی گاڑیطالبان کا خاتمہ،
پانچ سال بعد بھی کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
امریکہ میں پاکستانی سفیر محمود علی درانیطالبان سے تعلقات
پاکستانی سفیر نے رپورٹ کی تردید کر دی
مزاحمت کارمزاحمت کا حل کیا؟
امریکی فوجیوں کے لیئے نیا ہدایت نامہ
بھنگ کے پودےبھنگ کے جنگلات
اتحادی فوج کے خلاف افغان جنگوؤں کا حربہ
 ہلمندافغانستان میں نیٹو
جوانوں اور رسد کی کمی رہی تو کیا ہوگا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد