طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے ایک اہم طالبان کمانڈر کو فضائی حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔ فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو پاکستان کی سرحد کے قریب ہلمند صوبے میں اس وقت پیش جب ملا اختر محمد عثمانی نامی کمانڈر کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق اس حملے میں ملا عثمانی کے علاوہ ان کے دو ساتھی بھی ہلاک ہوئے۔ تاہم طالبان نے ملا اختر عثمانی کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ملا حیات خان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو فون پر بتایا کہ’ وہ اس علاقے میں ہی موجود نہیں تھے جہاں امریکی فوج انہیں ہلاک کرنے کا دعوٰی کر رہی ہے اور امریکی اور نیٹو افواج وقتاً فوقتاً ایسے جھوٹے دعوے کرتی رہتی ہیں۔ یہ صرف طالبان کے خلاف پروپیگنڈا ہے‘۔ امریکی فوج کے مطابق ملا اختر نہ صرف طالبان کے چیف ملٹری کمانڈر تھے بلکہ ان کا شمار اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ فوجی ترجمان کرنل ٹام کولن کا کہنا تھا کہ’ ملا اختر عثمانی افغان عوام، نیٹو اور حکومت کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ وہ جنوب میں طالبان تحریک کے اہم ترین سربراہوں میں سے تھے‘۔ کرنل کولن نے بتایا کہ ملا عثمانی کا شمار طالبان کے چار اعلٰی ترین کمانڈروں میں ہوتا تھا اور وہ ملا عمر کے بھی قریبی ساتھی تھے۔ افغانستان میں امریکی فوج کو طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا سامنا ہے اور تشدد کے زیادہ تر واقعات پاکستانی سرحد سے ملحقہ جنوبی افعانستانی صوبوں میں ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں زابل: خودکش حملے میں 5 افراد ہلاک14 December, 2006 | آس پاس ہلمند گورنرکے دفتر میں خود کش حملہ12 December, 2006 | آس پاس ’امن معاہدوں سے حملے بڑھے ہیں‘11 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||