طالبان نے 24 افغان اہلکار رہا کر دیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے کہا ہے کہ انہوں نے افغان پولیس کے چوبیس اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے جبکہ چار اعلیٰ افسران اب بھی ان کے قبضہ میں ہیں جنہیں شرعی سزائیں دی جائیں گی۔ طالبان نے اتوار کو صوبہ ہلمند کے شہر واشیر میں ایک حملے کے دوران افغان پولیس کے تیس اہلکاروں کو اسلحہ اور گاڑیوں سمیت پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم افغان حکام نے اس بات کی تردید کی تھی۔ صوبہ ہلمند میں طالبان کمانڈر ملا عبدالرحیم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ افغان پولیس کے ان چوبیس اہلکاروں کو اس شرط پر رہا کیا گیا ہے کہ وہ افغان پولیس سے استعفیٰ دیں گے۔ ملا عبدالرحیم کا مزید کہنا تھا’افغان پولیس کے چار اعلیٰ اہلکار اب بھی ہمارے قبضہ میں ہیں جن کے خلاف مقدمہ چلایاجائےگا اور اگر ان پر قتل یا کوئی اور جرم ثابت ہوا تو انہیں شرعی سزائیں دی جائیں گی جو کوڑوں، پھانسی دینے یا قید میں رکھنے کی صورت میں ہوسکتی ہیں‘۔ جنوبی افغانستان میں طالبان کا اثر و نفوذ زیادہ ہے جہاں افغان حکومت یا اتحادی افواج کےساتھ کام کرنے والوں کی زندگیوں کو ہمہ وقت خطرہ رہتا ہے۔ | اسی بارے میں آٹھ افغان پولیس اہلکار ہلاک12 October, 2003 | آس پاس افغان پولیس اور فوج میں تصادم01 November, 2003 | آس پاس چھ افغان پولیس اہلکاروں کے سر قلم 10 July, 2005 | آس پاس ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||