BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 February, 2007, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری

نیٹو مقامی عمائدین سے کیے گئے معاہدے کی خلاف نہیں کی ہے۔نیٹو کمانڈ
افغان حکومت نے کہا ہے کہ اس کے فوجی جنوبی صوبے ہلمند کے شہر موسیٰ قلعہ کوطالبان کے کنٹرول سے چھڑانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

افغانستان میں نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ طالبان کا قبضہ چھڑانے کے لیے افغان فوج کی مدد کریں گے۔

ادھر طالبان کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی نے انہیں مجبور کیا کہ وہ افغانستان کے صوبہ ہلمند کے اہم شہر موسٰی قلعہ پر قبضہ کر لیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف نےافغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے سٹیلائٹ فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دو دن گزرنے کے باوجود موسی قلعہ پر طالبان کا کنٹرول قائم ہے۔

قاری یوسف نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال قبائلی عمائدین کی کوششوں سے اتحادی فوج اور طالبان کے درمیان معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ دونوں فریق موسٰی قلعہ میں داخل نہیں ہوں گے اور شہر کا انتظام مقامی مشیران کے ہاتھ میں ہوگا۔

قاری یوسف کے بقول ’اتحادی فوج گزشتہ دو ہفتوں سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موسیٰ قلعہ میں آپریشن کررہی تھی۔’ہم نے قبائلی عمائدین سے رابطہ کیا کہ وہ نیٹو افواج کو معاہدے کی خلاف ورزی سے روکیں۔لیکن جب انہوں نے بے بسی کا اظہار کیا تو ہم نے موسیٰ قلعہ پر حملہ کر نے کا فیصلہ کیا۔‘

دوسری طرف اتحادی فوج نے سنیچر کے روزایک طویل بیان جاری کیا ہے جس میں معاہدہ کی خلاف ورزی سے متعلق طالبان کے دعویٰ کو غلط قراردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’اتحادی فوج نے موسیٰ قلعہ سے باہر ان علاقوں پر بمباری کی تھی جو معاہدے کا حصہ نہیں ہیں‘۔

لیکن اتحادی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کا دعویٰ محض ایک بہانہ ہے تاکہ معاہدہ کو توڑنے کی اپنی کوششوں پر پردہ ڈال سکیں کیونکہ طالبان سمجھتے ہیں کہ معاہدہ ان کےفائدہ میں نہیں ہے۔

طالبان کا دعویٰ غلط ہے
 طالبان موسیٰ قلعہ کے معاہدہ کا حصہ نہیں تھے بلکہ یہ افغان حکومت اور ایساف کی حمایت سے ہلمند کے گورنر اور قبائلی عمائدین کے درمیان ہوا تھا۔
نیٹو کے ترجمان

اتحادی افواج نے کہا ہے کہ طالبان موسیٰ قلعہ کے معاہدہ کا حصہ نہیں تھے بلکہ یہ افغان حکومت اور ایساف کی حمایت سے ہلمند کے گورنر اور قبائلی عمائدین کے درمیان ہوا تھا۔

بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات سے قبائلی عمائدین کے ساتھ معاہدوں کی پالیسی پرکوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ افغان حکومت اور قبائلی عمائدین کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بیان میں موسیٰ قلعہ پر طالبان کے قبضہ کا واضح طور پر اعتراف نہیں کیا گیا ہے بلکہ کہاگیا ہے کہ بعض رپورٹوں کے مطابق طالبان موسیٰ قلعہ پر قابض ہوئے ہیں۔

صوبہ ہلمند میں بی بی سی پشتو کے نمائندے عبدالصمد روحانی نے بتایا کہ موسیٰ قلعہ پر اب بھی طالبان کا قبضہ ہے اور تقریباً سینکڑوں لوگ اتحادی فوج اور طالبان کے درمیان ممکنہ جھگڑے کے خوف سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
150 مزاحمت کار ہلاک: نیٹو
11 January, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد