موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے اہم شہر موسی قلعہ پر طالبان کا قبضہ بدستور قائم ہے اور طالبان کی سپریم کونسل نے اس مسئلہ پر اتحادی فوج کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون پر بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی سپریم کونسل نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ موسی قلعہ کے حوالے سے اتحادی فوج اور افغان حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا تھا ’سپریم کونسل نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ قبائلی عمائدین کی کوششوں سے طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی اتحادی فوج کی طرف سے ہوئی ہے اور اب ان پر مزید اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مستقبل میں بھی معاہدے کی پاسداری کر سکےگی‘۔ اتحادی فوج نے اس دعوٰی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے موسٰی قلعہ سے باہر ان علاقوں پر فضائی حملے کئے تھے جو معاہدہ کا حصہ نہیں تھے۔ طالبان کے ترجمان نے دعٰوی کیا کہ موسی قلعہ پر ان کا کنٹرول مزید مستحکم ہوا ہے کیونکہ وہاں پر دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں طالبان جنگجو پہنچ چکے ہیں۔ طالبان نے تین دن قبل اتحادی افواج کو موسی قلعہ کے مسئلہ پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن قاری یوسف نے کہا کہ مذاکرات نہ کرنے کے متعلق سپریم کونسل کا حالیہ فیصلہ حتمی ہے۔ طالبان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغان حکومت نے پیر کے روز موسی قلعہ پر فضا سے پمفلٹ گرائے تھے جس میں طالبان سے کہا گیا تھا کہ وہ موسی قلعہ سے نکل جائیں ورنہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائےگا۔ صوبہ ہلمند میں بی بی سی پشتو کے نامہ نگار عبدالصمد روحانی نے بتایا ہے کہ موسی قلعہ پر اتحادی فوج کی ممکنہ بمباری اور طالبان کے جوابی حملوں کے خوف سے سینکڑوں لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔ واضح رہے طالبان نےگزشتہ جمعرات کو موسی قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا جو طالبان اور برطانوی فوج کے معاہدے کے بعدگزشتہ چار ماہ سے قبائلی عمائدین کے کنٹرول میں تھا۔ اس معاہدہ پر امریکا اور افغان حکام نے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ | اسی بارے میں طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ04 February, 2007 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||