BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 March, 2007, 04:14 GMT 09:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سے تعاون ختم: حکمت یار
گل بدین حکمت یار مفرور ہیں
افغانستان میں ’مجاہدین‘ کی تنظیم حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ وہ طالبان سے تعاون ختم کرکے حامد کرزئی کی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ طالبان نے ان کی طرف سے بیرونی قبضے کے خلاف مشترکہ کارروائی کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے۔

گلبدین نےکہا کہ ان کے پاس بڑی تعداد میں جنگجو موجود ہیں جو لمبے عرصے تک غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حامد کرزئی سے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کرزئی حکومت سے مذاکرات ہوسکتے ہیں اگر غیر ملکی حملہ آور انہیں لڑائی حتم کرکے مذاکرات کرنے کی اجازت دیں اور جو بھی طے ہو اس کی پاسداری کی جائے۔

پشاور میں افغان امور کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں گلبدین کی پیش کش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گلبدین نے پہلی مرتبہ کرزئی کی حکومت سے مصالحت کی بات کی ہے۔

انہوں نےکہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ گلبدین ان مذاکرات کے لیے کیا شرائط سامنے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلبدین حکمت یار کے پاس اب اتنی صلاحیت باقی نہیں ہے کہ وہ لمبے عرصے تک غیر ملکی افواج کے ساتھ لڑ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اورگلبدین کا آپس میں کوئی تعاون تھا ہی نہیں اور طالبان کئی مرتبہ ان کی مشترکہ جدوجہد کی پیش کش کو ٹھکرا چکے ہیں۔

رحیم اللہ نے کہا کہ ماضی میں طالبان اور گل بدین کی حزب اسلامی کی آپس میں لڑائیں بھی ہو چکی ہیں اور گلبدین طالبان کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی حزب اسلامی کے تین دھڑوں کو پہلے ہی اپنے ساتھ ملا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلبدین کی جنگی اعتبار سے اب کوئی بڑی حیثیت باقی نہیں رہی ہے لیکن حامد کرزئی کے ساتھ ملنے کی ایک علامتی اہمیت ضرور ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ حامد کرزئی اسے اپنی ایک علامتی فتح کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
’پوست سکیورٹی اشو ہے‘
06 March, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد