افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے حکام نے کہا ہے کہ اتحادی فوج نےگاڑیوں کے ایک قافلے پر خود کش حملے کے بعد فائرنگ کی جس سے آٹھ عام شہری ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خود کش بمبار نےافغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد کو پاکستان ملانے والی شاہراہ پر ایک فوجی گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ تاہم ابھی تک نیٹو یا امریکی افواج نے اس واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جنوبی افغانستان میں جھڑپوں کے دوران اتحاد کے دو فوجی مارے گئے ہیں۔ نیٹو ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیت کیا ہے اور جھڑپیں جنوبی افغانستان میں کس مقام پر ہوئیں۔
جنوبی افغانستان میں نیٹو کے زیرِ انتظام زیادہ تر فوجیوں کا تعلق برطانیہ اور کینیڈا سے ہے۔ برطانوی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد صوبہ ہلمند میں تعینات ہے جبکہ کینیڈا کے فوجی زیادہ تر قندھار میں میں ہیں۔ اس سال اب تک بیس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور خدشات ہیں کہ موسمِ سرما کے اختتام پر طالبان اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دیں گے۔ ننگرہار صوبے میں پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ فوجی گاڑی پر حملے کے بعد گولیاں چلنے سے آٹھ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ نور آغا زواک نے جو صوبائی حکومت کے ترجمان ہیں بتایا: ’ایک خود کش بمبار نے غیر ملکی فوجیوں کی گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں فوجیوں نے اپنے دفاع میں گولی چلا دی جس سے عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے‘۔ وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اسے فائرنگ کے واقعے کا علم ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی علاقے میں جا سکتے ہیں‘04 March, 2007 | آس پاس افغانستان: برطانیہ مزیدفوج بھیجے گا23 February, 2007 | آس پاس افغان نیٹو: رچرڈز کی جگہ میکنل04 February, 2007 | آس پاس نیٹو حملہ میں ’تیس طالبان ہلاک‘31 January, 2007 | آس پاس ’طالبان کی ہلاکتوں کا دعوی غلط تھا‘10 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||