افغان نیٹو: رچرڈز کی جگہ میکنل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے افغانستان میں نیٹو افواج کی قیادت امریکی جنرل ڈین میکنل کے حوالے کر دی ہے۔ جنرل ڈیوڈ رچرڈز نو ماہ تک نیٹو افواج کی قیادت کی اور اس عرصے کے دوران انٹتنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس: ایساف کی تعداد تینتیس ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس سے پہلے یہ تعداد نو ہزار تھی۔ انہیں حال ہی میں جنوبی افغانستان طالبان کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کاروں سے لڑائی کے لیے مزید وسائل درکار ہوں گے۔ تاہم اب تک صرف امریکہ اور برطانیہ ہی نے مزید افواج کی فراہمی کا وعدہ پورا کیا ہے۔ کا بل میں بی بی سی کے الیسٹر لئیتھیڈ کا کہنا ہے کہ یہ عرصہ جنرل رچرڈز کے لیے ایک کڑی آزمائش تھا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق طالبان نے اس عرصے کے دوران جنوبی افغانستان کے ان علاقوں پر حملے کیے جہاں امریکی، برطانوی، کنیڈیائی اور ڈچ یا ولندیزی افواج متعین تھیں اور اس سے پہلے یہ علاقے افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں تھے۔ تاہم جرل ڈیوڈ رچرڈز نے اپنی مدت کے اختتام پر کہا ہے کہ افغانستان میں جاری تنازع، ایک ایسی جنگ ہے جو جیتی جا سکتی ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ ہلمند شہر کے متنازع شہر موسیٰ قلعہ کی جانے والی بمباری کے دوران طالبان کمانڈر ملا عبدالغفور کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’یہ سو فیصد یقینی ہے کہ موسیٰ قلعہ میں طالبان کو منظم کرنے والے اور لوگوں کو ڈرا دھمکا کر علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے والے رہنما کو ان کے کئی ساتھیوں سمیت علاقے سے بھگا دیا گیا ہے‘۔ طالبان کے ایک ترجمان نے اس سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اتحادی فوج کے اس دعوے کی تردید کی اور کہا ہے کہ حملے میں طالبان کا کوئی اہم کمانڈر ہلاک نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ04 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس نیٹو حملہ میں ’تیس طالبان ہلاک‘31 January, 2007 | آس پاس ’زرقاوی ہتھیار نہیں چلا سکتے‘06 May, 2006 | آس پاس الزرقاوی کا وڈیو 25 April, 2006 | آس پاس اور اب الزرقاوی کا وڈیو ٹیپ25 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||