اور اب الزرقاوی کا وڈیو ٹیپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ویب سائٹ پر القاعدہ کے اہم رہنما ابو مصعب الزرقاوی کا ایک وڈیو پیغام نشر کیا گیا ہے اور امریکہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وڈیو میں نظر آنے والے شخص واقعی القاعدہ کے رہنما ہیں۔ وڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ مقدس جنگجو تین سال سے جاری ’صلیبی جنگ‘ کے باوجود لڑای جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تین برس میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اردن میں پیدا ہونے والے ابو مصعب الزرقاوی کی کوئی وڈیو سامنے آئی ہو اور انہوں نے خود کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کیا ہو۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ الزرقاوی آہستہ آہستہ بولتے ہوئے امریکہ پر تنقید کر رہے ہیں کہ اس نے عراق پر حملہ کر کے وہاں قبضہ کر لیا ہے۔ الزرقاوی نئی عراقی حکومت پر بھی تنقید کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں اس لیئے قائم کی گئی ہے کہ امریکہ جس مصیبت میں مبتلا ہے اس سے باہرنکل سکے۔
القاعدہ کے یہ رہنما عراق میں سب سے زیادہ مطلوب شخصیت ہیں اور ان کو پکڑوانے والے کو پچیس ملین امریکی ڈالر کا انعام دینے کا وعدہ کیا گیاہے۔ ان پر عراق میں حملوں اور امریکی فوج اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے کا الزام ہے۔ الزرقاوی کے گروپ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ عراق میں تقریباً روزانہ ہی خود کش دھماکوں اور حملوں کا ذمہ دار ہے۔ مفرور شدت پسند پر یہ شبہہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ ذاتی طور پر امریکی شہری نک برگ اور برطانوی شہری کین بگلی کے سر قلم کیئے جانے میں شریک تھے۔ یہ وڈیو ٹیپ اس ویب سائٹ پر نشر کیا گیا ہے جسے الزرقاوی گروپ اپنے پیغامات کی تشہیر کے لیئے استعمال کرتا ہے۔ وڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص جس کی شکل ابو مصعب سے بہت زیادہ ملتی ہے فرش پر بیٹھا ہوا ہے جس کے ایک طرف ایک خودکار رائفل ہے اور وہ ماسک پہنے ہوئے افراد کے ایک گروہ سے خطاب کر رہا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے: ’آپ کے مجاہدین بیٹوں نے ایک مسلمان ریاست میں انتہائی وحشیانہ صلیبی مہم کا مقابلہ کیا ہے۔‘ امریکہ صدر کو مخاطب کرتے ہوئے الزرقاوی کہتے ہیں: ’آپ اپنے لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ امریکی فوجی خود کشی کر رہے ہیں۔ وہ نشہ آور دوائیاں اور نیند کی گولیوں سے گزار کرتے ہیں۔ خدا کی قسم ہمارے جسم اور ہمارا خون آپ کے خوابوں کو چکنا چور کر دے گا۔ اگلے دنوں میں جو کچھ ہوگا وہ آپ کے لیئے پہلے سے بھی بھیانک ہے۔‘ الزرقاوی اس ٹیپ میں امریکہ کی ’جسارت اور بد دماغی‘ کی مذمت اس لیئے بھی کر رہے ہیں کہ اس نے ’ہمارے شہزادے اور ہمارے رہبر اسامہ بن لادن کی جنگ بندی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ | اسی بارے میں اسامہ ٹیپ کا متن24 April, 2006 | آس پاس آواز اسامہ بن لادن ہی کی ہے: امریکہ24 April, 2006 | آس پاس الزرقاوی کو ہٹا دیا گیا: رپورٹ03 April, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||