آواز اسامہ بن لادن ہی کی ہے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ اسامہ سے منسوب جو ٹیپ جاری کیا گیا ہے اس کی آواز کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اصلی ٹیپ ہے اور اس میں اسامہ بن لادن ہی کی آواز ہے۔ امریکی خفیہ اداروں نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اسامہ کا تازہ ترین ٹیپ اسامہ بن دلان ہی کی آواز پر مبنی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلن کے مطابق ٹیپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کی قیادت دباؤ میں ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کماراسامی نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ ٹیپ سے ظاہر ہے کہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت پر دباؤ ہے اور یہ کہ امریکہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں فتح یاب ہو۔ تاہم صدر بش کے مخالفین کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک شخص کی سب سے بڑی تلاش ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوج عراق میں پھنس گئی ہے۔ اس ٹیپ میں القاعدہ کے رہنما نے مغرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ حماس کی حکومت کی مخالفت کر کے در اصل مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کر رہا ہے۔ صدر بش کے مخالفین کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کا نیا ٹیپ منظرِ عام پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اسامہ کو پکڑنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ تاہم حماس نے اسامہ کے پیغام سے فاصلہ قائم کرنا چاہا ہے اور کہا ہے کہ وہ مغرب سے اچھے تعلقات کی خواہاں ہے۔ عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ سے نشر ہونے والے اس ٹیپ میں اسامہ بن لادن نے کہا تھا کہ مغرب مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ میں مصروف ہے۔ اسامہ کے اس نئے پیغام سے قبل انیس جنوری کو ان کا ایک ٹیپ نشر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے امریکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا تھا۔ جنوری میں ایک ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں اسامہ بن لادن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ زندہ نہیں پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے آزادہ رہنے کی قسم کھاتے ہوئے کہا تھا کہ مرنا اگرچہ آسان نہیں ہے لیکن اسے وہ ذلت کی زندگی پر ترجیح دیں گے۔ |
اسی بارے میں اسامہ ٹیپ کا متن24 April, 2006 | آس پاس زندہ ہاتھ نہ آؤں گا: اسامہ بن لادن20 February, 2006 | آس پاس اسامہ کی تعریف سے کتاب بکنے لگی23 January, 2006 | پاکستان الجزیرہ پر’اسامہ بن لادن کی ٹیپ‘19 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||