BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 00:45 GMT 05:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ ٹیپ کا متن
پچھلے ٹیپ میں امریکہ پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کا ذکر تھا
اسامہ بن لادن سے منسوب ٹیپ کے پیغام نے جسے الجزیرہ ٹیلی وژن چینل پر نشر کیا گیا ہے مغرب پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مصروفِ جنگ ہے۔ اسامہ کے نئے ٹیپ میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان کے کچھ حصے یہ ہیں۔

’مغرب حماس کی مخالفت کر رہا ہے اور یہیں سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف صلیبی- صیہونی جنگ ہے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عوام اور حکومت دونوں ہی جنگ کے حصہ دار ہوتے ہیں۔‘

’جنگ جاری ہے اور لوگ اپنے حاکموں اور سیاسی پیشواؤں سے وفاداری کی تجدید کر رہے ہیں۔ وہ ہم سے لڑنے کے لیئے اپنی اولاد کو فوج میں بھرتی کے لیئے روانہ کر رہے ہیں۔ اور لوگ اس مقصد کے لیئے مادی اور اخلاقی امداد بھی فراہم کر رہے ہیں۔‘

’ہمارے ممالک جل رہے ہیں۔ ہمارے گھروں پر گولے برسائے جار رہے ہیں۔ ہمارے لوگ لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ لیکن کسی کو ہماری پروا نہیں۔ ہمارے ممالک، ہمارے بھائیوں اور ہمارے عقائد پر جس دیدہ دلیری کے ساتھ حملے کیئے گئے ہیں اس کی ایک مثال جریچو جیل پر اسرائیل کا ہلہ بولنا اور اسے زمیں بوس کرنا ہے۔ اس مقصد میں امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ ساز باز کر رکھی تھی۔‘

سوڈان میں برطانیہ اور امریکہ کی شمولیت پر اسامہ بن دلان کا کہنا تھا۔

’برطانیہ نے سوڈان کو مصر سے جدا کیا۔ پھر اس نے سوڈان سے جنوبی حصے کو علیحدہ کرنا چاہا۔ یہ برطانیہ ہی تھا جس نے جنوب کے لوگوں کا ایک لشکر بنوایا۔ اس لشکر کو روپیہ پیسہ، ہتھیار اور مہارت فراہم کی۔ پھر اسے ہدایت کی کہ وہ سوڈان سے الحاق کا مطالبہ کرے۔ اس کے بعد امریکہ نے مادی اور اخلاقی امداد کے سہارے اور اقوامِ متحدہ جیسے اپنے بین الاقوامی آلہ کاروں کے ذریعے اس فوج کی سرپرستی کی۔

 وہ اپنے صلیبی مشن کو ہماری قوم تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے ملکوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے وسائل کو لوٹ لینا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے نعروں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ منافقوں کے اعلانات سے دھوکہ نہ کھائیں۔مسلمانوں اور عربوں میں موجود مرتدوں کے اعلانوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ بدکاروں سے، جھوٹ کا ابلاغ کرنے والوں سے اور ان سے جو دوسروں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، دھوکہ نہ کھائیں
اسامہ ٹیپ

امریکہ نے خرطوم کی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایک غیرمنصفانہ معاہدے پر دستخط کرے جس کے تحت چھ سال کے بعد جنوبی حصے کا الگ ہونا ٹھہر گیا۔

سوڈان کے صدر عمر حسن احمد البشیر اور امریکی صدر جارج بش آگاہ رہیں کہ یہ معاہدہ قدر و قیمت میں میں اس روشنائی سے بھی کمتر ہے جس کے ذریعے اسے ضبطِ تحریر میں لایا گیا۔ ہم اس کے پابند نہیں۔

ان تمام ریشہ دوانیوں اور جرائم کے باوجود امریکہ کو چین نہیں آیا اور اس نے مزید خانہ جنگی کو ہوا دی۔ مغربی سوڈان وہ علاقہ ہے جہاں بدترین لڑائی ہوئی ہے۔ جہاں قبائل کے درمیان چھوٹے چھوٹے اختلافات کو خود ان کے درمیان نزاع کی وجہ بنایا گیا۔ ایسی نزاع جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو نابود کر دیتی ہے۔ اور یہ دراصل صلیبی قوتوں کو خطے میں قبضے کے لیئے بھیجنے کی تیاری تھی تاکہ سکیورٹی برقرار رکھنے کے بہانے وہاں سے تیل چُرا لیا جائے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک مسلسل صلیبی جنگ ہے۔

میں عمومی طور پر مجاہدین اور ان کے طرف داروں پراور خصوصاً سوڈان اور اس کے نواحی علاقوں پر جن میں جزیرہ نمائے عرب شامل ہے، زور دیتا ہوں کہ وہ مغربی سوڈان میں صلیبی سارقوں کے خلاف طویل جنگ کے لیئے جو کچھ بھی ضروری ہے اس کی تیاری کریں۔

ہمارا مقصد واضح ہے۔ ہمارا مقصد یہ کہ اسلام کی، مسلمانوں کی اور ان کی زمین کی محافظت کی جائے۔ ہمارا مقصد خرطوم حکومت کا دفاع نہیں۔ خرطوم حکومت اور ہمارے درمیان کچھ مفادات مشترکہ ضرور ہیں۔ لیکن ہمارے اختلافات بہت بڑے ہیں۔ یہی اختلاف کافی نہیں کہ خرطوم حکومت نے جنوبی علاقے کا ساتھ چھوڑ دیا اور ملک میں شرعی قانون کے نفاذ میں ناکام رہی۔

مجاہدین اس علاقے اور دارفور کے قبائل سے خوب واقف ہو جائیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو کسی خاص علاقے پر نگاہ رکھتے ہوں اسے فتح کر سکتے ہیں لیکن وہ جو علاقے سے باخبر نہ ہوں انہیں خود علاقہ اپنا زیردست کر لیتا ہے۔‘

مغربی پالیسیوں کے تناظر میں اسامہ بن دلان کا کہنا تھا:

’مغرب کی ہمارے لوگوں کو بے وقوف بنانے اور انہیں حقارت سے دیکھنے کی ایک دلیل یہ ہے کہ مغرب کے جہاز اور ٹینک فلسطین، عراق، افغانستان، چیچنیا اور پاکستان میں ہمارے اقرباء اور ہمارے بچوں کےگھروں کو تباہ کر رہے ہیں۔

اس پر مغرب کا کہنا ہے کہ وہ اسلام دشمن نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے اور اس کا یہ کہنا ہے کہ ’ہم تہذیبوں کے تصادم کی بجائے پرامن بقائے باہمی اور مکالمے کی بات کرتے ہیں۔‘

’مجاہدین‘ کو اسامہ کی ہدایت
 مجاہدین اس علاقے اور دارفور کے قبائل سے خوب واقف ہو جائیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو کسی خاص علاقے پر نگاہ رکھتے ہوں اسے فتح کر سکتے ہیں لیکن وہ جو علاقے سے باخبر نہ ہوں انہیں خود علاقہ اپنا زیردست کر لیتا ہے
اسامہ بن لادن کا ٹیپ

لیکن حقیقت مغرب کے ایسے اعلانات کو جھٹلا رہی ہے۔ مغربی سفارتکار صرف مکالمہ برائے مکالمہ کی بات کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہمیں دھوکہ دینا ہے تاکہ انہیں اور وقت مل جائے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم جنگ بند رکھیں۔

لیکن وہ اپنے صلیبی مشن کو ہماری قوم تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے ملکوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے وسائل کو لوٹ لینا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے نعروں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ منافقوں کے اعلانات سے دھوکہ نہ کھائیں۔مسلمانوں اور عربوں میں موجود مرتدوں کے اعلانوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ بدکاروں سے، جھوٹ کا ابلاغ کرنے والوں سے اور ان سے جو دوسروں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، دھوکہ نہ کھائیں۔‘

اس ٹیپ میں روس کی چیچنیا میں مداخلت اور صومالیہ میں تشدد کا بھی ذکر ہے۔ ٹیپ میں کہا گیا ہے:

’چیچنیا میں روس کے رونگٹے کھڑے کردینے والے مظالم پر خاموشی کیوں ہے؟ چیچن لوگوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے صرف الزام پر قتل کر دینے اور ان کے جسموں کے ٹکڑے کردینے پر خاموشی کیوں ہے؟ نام نہاد مہذب دنیا اسے آشیرباد دیتی ہے۔ در اصل وہ خفیہ طور پر اس کی حمایتی ہے۔ صومالیہ میں مسلمانوں کی تذلیل اور وہاں ہمارے تیرہ ہزار بھائیوں کی ہلاکت کا کیا مقصد ہے؟ یہ سب واضح کرتا ہے کہ ان کی مخاصمت کتنی زیادہ اور کتنی گہری ہے ۔‘

اسامہاسامہ مزید مہنگے
خوش قسمتی یا بے وفائی کس کے نام؟ منظور اعجاز
osamaمشرف کا اعتراف
’اسامہ بن لادن کا سراغ کھو چکے ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد