’امریکیوں کےہاتھوں افغانوں کی ہلاکت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجود امریکی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج کے ایک قافلے پر خود کش حملے کے بعد فائرنگ کے واقعے میں سولہ عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خود کش بمبار نےافغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد کو پاکستان ملانے والی شاہراہ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے بعد فائرنگ شروع ہوئی۔ امریکی فوج کے مطابق حملہ آور نے بارود سے بھری ایک منی بس قافلے سے ٹکرانے کی کوشش کی جس سے ایک فوجی زخمی ہوا۔ فوج کے مطابق اس واقعے کے فوراً بعد قافلے پر کئی جانب سے حملہ کیا گیا جس پر فوجی قافلے میں شامل افراد نے اپنے دفاع میں گولیاں چلائیں۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار الیسٹر لیتھ ہیڈ کے مطابق مقامی آبادی کا دعوٰی ہے کہ امریکی فوجیوں نے بم حملے کے بعد شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد عام شہریوں کی ہلاکت پر ہزاروں مقامی باشندوں نے مظاہرے بھی کیے۔ مظاہرین امریکی فوجیوں پر راہگیروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کر رہے تھے۔ اس سے قبل نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ جنوبی افغانستان میں جھڑپوں کے دوران اتحادی فوج کے دو فوجی مارے گئے ہیں۔ نیٹو ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیت کیا ہے اور جھڑپیں جنوبی افغانستان میں کس مقام پر ہوئیں۔ جنوبی افغانستان میں نیٹو کے زیرِ انتظام زیادہ تر فوجیوں کا تعلق برطانیہ اور کینیڈا سے ہے۔ برطانوی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد صوبہ ہلمند میں تعینات ہے جبکہ کینیڈا کے فوجی زیادہ تر قندھار میں میں ہیں۔ اس سال افغانستان میں اب تک بیس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور خدشات ہیں کہ موسمِ سرما کے اختتام پر طالبان اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دیں گے۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی علاقے میں جا سکتے ہیں‘04 March, 2007 | آس پاس افغانستان: برطانیہ مزیدفوج بھیجے گا23 February, 2007 | آس پاس افغان نیٹو: رچرڈز کی جگہ میکنل04 February, 2007 | آس پاس نیٹو حملہ میں ’تیس طالبان ہلاک‘31 January, 2007 | آس پاس ’طالبان کی ہلاکتوں کا دعوی غلط تھا‘10 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||