طالبان کے خلاف ’بڑی کارروائی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو اور افغان فوج نے کہا ہے انہوں نے ملک کے جنوب میں طالبان کے خلاف بہت بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا نام ’ آپریشن ایکیلس‘ رکھا گیا ہے جس میں نیٹو کے ساڑھے چار ہزار فوجی حصہ لیں گےجبکہ افغانستان کے ایک ہزار فوجی بھی اس کارروائی میں شریک ہوں گے۔ نیٹو نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے شروع ہوتے ہی ان کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔ ہلمند کا صوبہ جس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے، طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ گزشتہ ماہ صوبے کے گورنر نے کہا تھا کہ برطانوی فوجوں سے مقابلہ کرنے کے لیے سات سو مزاحمت کاروں نے سرحد پار کی ہے۔ نیٹو کی جنوبی کمانڈ کے سربراہ ٹون وین لون کا کہنا ہے کہ یہ ایساف (انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹینس فورس) اور افغان نیشنل سکیورٹ فوج کی مشترکہ کارروائی پر مبنی آپریشن ہوگا اور اس نوعیت کی کارروائی پہلے نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنانا ہے جہاں طالبان شدت پسند، منشیات کے سمگلر اور کچھ دوسرے افغانستان کی حکوت کو عدم مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’حملے کی تصاویر مٹا دی گئی تھیں‘ 05 March, 2007 | آس پاس ہلمند: دو برطانوی فوجی ہلاک05 March, 2007 | آس پاس افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک04 March, 2007 | آس پاس خود کش دھماکے میں نو ہلاک27 February, 2007 | آس پاس ’امریکیوں کےہاتھوں افغانوں کی ہلاکت‘04 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||