’حملے کی تصاویر مٹا دی گئی تھیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ اتوار کو افغان شہریوں پر ہونے والے حملے کی تصاویر امریکی فوجیوں نے مٹا دی تھیں اور اے پے اس سلسلے میں امریکی فوجی حکام سے باضابطہ شکایت کرے گا۔ جلال آباد کے قریب ہونے والے اس حملے میں آٹھ شہری ہلاک اور پینتیس زخمی ہوئے تھے۔ اے پی کے لیے کام کرنے والے فری لانس صحافیوں کا کہنا ہے فوجیوں نے ان کی وہ تمام تصاویر اور فلم مٹا دی تھی جس میں اس گاڑی کو دکھایا گیا تھا جس میں تین افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔
اے پی کے لیے کام کرنے والے ایک کیمرہ مین اور ایک فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ وہ فائرنگ کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد موقع پر پہنچے تھے۔ فوٹوگرافر رحمت گل کا کہنا ہے کہ ’میں جب اس گاڑی کے قریب گیا تو میں نے دیکھا کہ امریکی اس کی فوٹو اتار رہے ہیں تو میں نے بھی فوٹو لینی شروع کر دی۔ پھر دو فوجی ایک ترجمان کے ساتھ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ فوٹو کیوں لے رہے ہیں؟ آپ کو اس کی اجازت نہیں ہے‘۔ فوٹوگرافر رحمت گل کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے ان کا کیمرہ ان سے لے لیا اور اس میں سے تمام تصاویر مٹانے کے بعد انہیں واپس دے دیا۔ افغان ٹی وی چینل کے لیے رپورٹنگ کرنے والے خانولی کامران کا بھی کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ان کی لی ہوئی تصاویر بھی مٹا دیں۔ ’انہوں نے مجھے خبردار کیا کہ اگر یہ تصاویر دھکھائی گئیں تو مجھے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا‘۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے امریکی فوج کی کارروائی کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا صحافیوں کے ساتھ برتاؤ ٹھیک نہیں تھا۔ امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی مصدقہ خبر نہیں ہے کہ ان کے فوجیوں نے کسی کے کیمرے ضبط کیے ہوس یا تصاویر مٹائی ہوں۔ اتوار کو ہونے والے واقعے میں امریکی اور اتحادی افواج نے شہریوں کی ایک گاڑی کا پیچھا کر کے اس پر فائرنگ کی تھی۔انہوں نے یہ کارروائی اتحادی افواج کے ایک قافلے پر خودکش حملے کے بعد کی گئی۔ | اسی بارے میں افغان شہریوں کی ہلاکت کی تحقیق05 March, 2007 | آس پاس ’امریکیوں کےہاتھوں افغانوں کی ہلاکت‘04 March, 2007 | آس پاس افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک04 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||