BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 March, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان ہتھیار تیار کر سکتے ہیں‘
طالبان
’طالبان کے عراقی مجاہدین سے بہت گہرے تعلقات ہیں‘
طالبان رہنما ملا داد اللہ کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو ضرورت پڑنے پر ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عرب ٹی وی الجزیرہ کو ایک انٹرویو میں افغانستان میں طالبان کی عسکری کارروائیوں کے سربراہ ملا داد اللہ نے کہا کہ’ آج کے طالبان پانچ برس پہلے والے طالبان جیسے نہیں رہے‘۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں امریکہ کی مدد کرنے پر پاکستان اور عرب ممالک پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کی وجہ سے ان کی تحریک کو جتنا نقصان پہنچا ہے اتنا امریکہ یا برطانیہ کی وجہ سے بھی نہیں پہنچا۔

ملا داداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان اس موسمِ بہار میں افغانستان میں اپنی کارروائیاں تیز کر دیں گے اور ابتدائی طور پر ان کارروائیوں میں چھ ہزار طالبان شریک ہوں گے اور یہ تعداد بیس ہزار تک بڑھا دی جائے گی۔

طالبان رہنما نے انٹرویو کے دوران یہ دعوٰی بھی کیا کہ طالبان جنگجو عراق میں امریکہ مخالف مزاحمت کاروں کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’ہمارے عراقی مجاہدین سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔جب بھی موقع میسر آتا ہے تو مجاہدین عراق اور افغانستان کے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں اور ہم لوگ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں‘۔

ملا داد اللہ کا یہ انٹرویو اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی نائب صدر ڈک چینی کے دورۂ پاکستان کے فوراً بعد کوئٹہ سے طالبان دور کے افغان وزیرِ دفاع عبیداللہ اخوند کی گرفتاری کی خبریں گردش میں ہیں۔ پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال گرفتاری کی تصدیق نہ کیے جانے کی وجہ سے صورتحال میں ابہام پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد