سابق طالبان رہنما ’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان رپورٹوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے ایک اہم رہنما اور ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی ملا عبید اللہ اخوند کو پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے جمعہ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے بتایا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقیت نہیں کہ طالبان حکومت کے سابق وزیر دفاع ملا عبید اللہ اخوند کو پاکستانی حکام نے کوئٹہ سے حراست میں لیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملا محمد عمر کے دست راست کہلانے والے ملا عبید اللہ اخوند کو پیر کے روز کوئٹہ شہر سے کچھ دیگر طالبان کمانڈروں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ کوئٹہ میں کی جانے والی مذکورہ کارروائی اس لحاظ سے اہم ہے کہ گزشتہ پیر کو جب امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی غیر اعلانیہ دورے پر پاکستان آئے تھے تو انہوں نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرے۔ ترجمان نے بتایا کہ ’طالبان رہنما کی گرفتاری کی خبریں صرف بے بنیاد اطلاعات پر مبنی ہیں کیونکہ تاحال کسی نے بھی باضابطہ طور پر اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہو۔ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے تمام قائدین افغانستان میں مقیم ہیں جبکہ پاکستان سے ان کی گرفتاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قاری یوسف نے مزید بتایا کہ کوئٹہ سے جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں وہ افغان تو ہوسکتے ہیں لیکن ان میں طالبان کا کوئی رہنما موجود نہیں تھا۔
اس سلسلے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے حال ہی میں تعینات کیے جانے والے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ اس خبر کا فوج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میرے پاس اس سلسلہ میں کوئی اطلاع نہیں اس لیے اس کی تصیدق یا تردید کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘ جب میجر جنرل وحید ارشد سے پوچھا گیا کہ وہ ملا عبید اللہ اخوند کی گرفتاری کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال اخبارات سے پوچھا جانا چاہیئے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ چھ سالوں کے دوران القاعدہ اور طالبان کے کئی اہم رہنماؤں کو پاکستان سے گرفتار کیا جاچکاہے۔ اس سے قبل خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پاکستان کے انٹیلیجنس افسروں کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ کوئٹہ میں اس ہفتے کے شروع میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا تھا جس میں ملا عبیداللہ کے علاوہ پانچ اور مشتبہ طالبان کو پکڑ لیا گیا۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی دو پاکستانی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملا عبید اللہ اخوند کو پیر کے روز، جس دن امریکی نائب صدر ڈک چینی پاکستان کے دورے پر آئے تھے، کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ملا عبید اللہ کو ڈک چینی کے دورے سے پہلے، اس کے دوران یا بعد میں گرفتار کیا گیا۔ |
اسی بارے میں طالبان کے ساتھ وہ دن 25 January, 2007 | پاکستان ڈکٹیشن نہیں لیں گے: دفترِ خارجہ26 February, 2007 | پاکستان ’افغانستان سے اب نہیں جائیں گے‘12 February, 2007 | پاکستان ’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘28 February, 2006 | پاکستان افغان رپورٹ بے کار اور پرانی ہے: مشرف06 March, 2006 | پاکستان ’رنجش، پاکستانیوں کی وجۂ ہلاکت‘31 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||