BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان سے اب نہیں جائیں گے‘

رابرٹ گیٹس
صدر مشرف کو ان کی ان کوششوں پر بھی مبارکباد دی ہے: رابرٹ گیٹس
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نےاعتراف کیا ہے کہ سوویت انخلاء کے بعد افغانستان کو نظر انداز کرنا امریکہ کی ایک غلطی تھی جس کا وہ اعادہ نہیں کرے گا۔

پاکستان سے روانگی کے وقت اسلام آباد ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک مضبوط اتحادی ہے۔

رابرٹ گیٹس نے پریس کانفرنس سے قبل پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران پاک افغان سرحد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ صدر مشرف سے ملاقات میں موسم بہار میں سرحد پر ہونے والی ممکنہ عسکری کارروائی کے بارے میں بات ہوئی ہے اور ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جو امن وامان کے لیے نیٹو اتحادی، امریکہ، پاکستان اور افغانستان مل کر اور الگ الگ کر سکتے ہیں۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ انہوں نے افغان سرحد پر کیے جانے والے اقدامات اور شمالی وزیرستان کے امن معاہدے پر عملدرآمد کروانے کی کوششوں پر صدر جنرل پرویز مشرف کا شکریہ ادا کیا۔

طالبان کے خلاف پیش بندی
نیٹو اور پاکستان افغانستان میں طالبان کی موسم بہار میں ہونے والی ممکنہ عسکری کارروائی کے خلاف مل کر کارروائی کر سکتے ہیں۔
رابرٹ گیٹس

انہوں نے کہا کہ ’میں نے صدر مشرف کو ان کی ان کوششوں پر بھی مبارکباد دی ہے جو وہ ایک معتدل اسلام کے فروغ کے لیے کر رہے ہیں اور انہیں کہا ہے کہ یہ کوششیں جاری رہنی چاہیں۔‘

امریکی وزیردفاع نے کہا کہ وہ بیس برس پہلے بھی پاکستان آئے تھے جب پاکستان اور امریکہ نے مل کر سوویت قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے والے افغانوں کی مدد کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے جانے کے بعد امریکہ نے ایک غلطی کی تھی’ ہم نے افغانستان کو نظر انداز کر دیا تھا اور انتہا پسندی نے اس ملک کا کنٹرول سنبھال لیا جس کی قیمت امریکہ کو نو ستمبرسنہ دوہزار ایک میں ادا کرنا پڑی تھی۔یہ غلطی اب ہم نہیں دہرائیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

سرحد پر کارروائی
 افغان سرحد پر جوبھی کارروائی ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے تعاون کے ساتھ کی جاتی ہے۔
رابرٹ گیٹس
پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ افغان سرحد پر جوبھی کارروائی ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے تعاون کے ساتھ کی جاتی ہے۔

پاکستان پر کی جانے والی تنقید کو انہوں نے منفی حربہ قرار دیا اور کہا کہ منفی ریمارکس کوئی بہتری پیدا نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کے بقول ایک مثبت کام کر رہا ہے اور اپنی سرحد پر ہونے والی جنگ کے لیے اس نے قیمتی جان ومال کی قربانیاں دی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کوششوں میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنےاور ایک دوسرے سے بہتر انداز میں تعاون کے لیے امریکہ ایک مثبت کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ پاک افغان سرحد پرامن ہو اور افغانستان میں استحکام اور پائیدار جمہوریت کو فروغ ملے۔انہوں نے کہا کہ’ ہم اپنے اس ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وزیرستان معاہدہ کے مسائل
 صدر مشرف نے تسلیم کیا ہے کہ افغان سرحد پر اور شمالی وزیر ستان کے معاہدے پر عملد درآمد کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے تاہم حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔
رابرٹ گیٹس
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے یہ تسلیم کیا ہے کہ افغان سرحد پر اور شمالی وزیر ستان کے معاہدے پر عملد درآمد کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے تاہم امریکی وزیر دفاع کے بقول ’حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کےدورے کا مقصد مطالبات پیش کرنا اور یقین دہانیاں حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ان کے دورے کا مقصد یہ تھا کہ اتحادی افواج امریکہ افغانستان اور پاکستان آپس میں مل کر کیسے مزید کام کرسکتے ہیں تاکہ طالبان اور القاعدہ کو روکا جائے۔

امریکی کانگریس میں پاکستان کی عسکری امداد کو طالبان کے خلاف کارکردگی سے مشروط کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ انہیں پوری طرح یہ علم نہیں ہے کہ کیا قانون سازی ہو رہی ہے ’البتہ ایک بات واضح ہے کہ امریکی کانگریس کو اس بات کے بارے میں تشویش ہے کہ جہاں امریکہ فوجی تعینات ہیں وہاں کیا ہورہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو سرحد کے معاملات پر تشویش ہے اور اگر ہمیں تشویش نہ ہوتی تووہ آج نہ ہوتے۔

افغانوں کا ترجمان نہیں
 پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے پر افغان مخالفت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ افغان حکومت کے ترجمان نہیں ہیں۔
رابرٹ گیٹس
پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے پر افغان مخالفت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ افغان حکومت کے ترجمان نہیں ہیں اور یہ سوال کا تعلق ان سے نہیں ہے۔

افغان مہاجرین کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا بڑا انسانی مسئلہ ہے جس کا پاکستان اور پوری دنیا کو سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں افغان مہاجرین اگرچہ واپس جاچکے ہیں لیکن لاکھوں ابھی پاکستان میں موجود ہیں اور ان کی واپسی کے لیے ان کی افغانستان میں رہائش اور روزگار فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک بڑی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف اور ان فوجی اہلکاروں کے رشتہ داروں سے تعزیت کی ہے جو بائیس جنوری کو جاں بحق ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں کے حوصلے اور کامیابیوں کے وہ معترف ہیں۔

رابرٹ گیٹس مقررہ وقت سے آدھے گھنٹے پہلے صبح سات بجے ہی پاکستان پہنچ گئے تھے جس کی وجہ سے پاکستانی وزیر دفاع راؤ سکندر چکلالہ ایئر بیس پر ان کا استقبال نہ کرسکے۔ایک پاکستانی افسر نے بتایا کہ راؤ سکندر راستے میں تھے جب امریکی وزیر دفاع ایئر پورٹ سے روانہ بھی ہوگئے۔اس پاکستانی افسر کا خیال تھا کہ ایسا سکیورٹی کے پیش نظر کیا گیا ہوگا۔

رابرٹس گیٹس نے پاکستان میں صرف پانچ گھنٹے قیام کیا۔ اس دوران ان کی سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد