طالبان سے رعایت، مشرف کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اندر کچھ عناصر طالبان کی جانب اپنی ’آنکھ بند کرلیتے‘ ہیں لیکن حکومت پاکستان یا خفیہ اداروں کی جانب سے طالبان کو کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔ جنرل مشرف جمعہ کو راولپنڈی میں اپنی فوجی رہائش گاہ ’آرمی ہاؤس‘ میں ملک بھر سے بلوائے گئے مختلف اخبارات کے ایڈیٹرز اور پاکستان میں تعینات غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر نے بتایا کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ مخصوص حالات میں کچھ چیک پوسٹوں پر سکیورٹی اہلکار طالبان کے معاملے میں چشم پوشی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیکن ایسا اکثر اس وقت ہوتا ہے جب کسی چیک پوسٹ پر ایک دو اہلکار تعینات ہوں۔ ’رات کے وقت پندرہ بیس مسلح، تربیت یافتہ اور پرعزم طالبان اگر اس کو چیلنج کریں تو وہ کیا کرسکتا ہے؟‘ ان کا کہنا تھا ’اگر ایسی صورتحال کی وجہ سے کوئی یہ کہتا ہے کہ سارا قصور پاکستان کا ہے تو یہ غلط ہے اور میں اس کو مکمل طور پر رد کرتا ہوں۔‘ ان کے مطابق ایسے حالات میں شدت پسندوں کو روکنا محض پاکستان کی ہی ذمہ داری کیوں؟ ان دنوں جنرل مشرف پر امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔ صدر مشرف نے افغانستان حکومت کے ایسے تمام الزامات کو مسترد کردیا کہ پاکستانی حکومت اور آئی ایس آئی افغانستان میں طالبان کی حمایت کررہے ہیں۔
صدر نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پہلے مرحلہ میں صوبہ سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں سات آٹھ مخصوص مقامات پر باڑ لگائی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں بلوچستان کے علاقے میں ڈھائی سو کلومیٹر تک باڑ لگائی جائے گی۔ ان کے مطابق بلوچستان میں کچھ مقامات پر اگر ضروری ہوا تو بارودی سرنگیں بھی بچھائی جائیں گی۔ پاکستان نے افغانستان کو شدت پسندی روکنے کے لیے چوبیس سو کلومیٹر طویل اور پیچیدہ سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگ بچھانے کی پیشکش کی تھی، جو افغانستان کی حکومت اور پاکستان میں پشتون قوم پرست جماعتوں نے مسترد کر دی تھی۔ افغانستان کہتا رہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن مستقل سرحد نہیں ہے جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے تک یہ ایک مستقل سرحد بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں صدر کی جانب سے باضابطہ اعلان کو خاصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے دو گھنٹے تک کھل کر میڈیا کے نمائندوں سے بات کی اور ان کے سوالات کے جواب دیئے۔ ان کا زیادہ تر موضوع افغانستان رہا اور انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں انہیں پاکستان کی حکمت عملی اور طریقہ کار میں فرق کرنا چاہیے۔ صدر نے کہا کہ باڑ لگانا اور بارودی سرنگ بچھانا بہتر آپشن نہیں ہے ’لیکن اگر اس سے بہتر کوئی طریقہ ہے تو سامنے لایا جائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ نقادوں کو پاکستان پر صرف تنقید ہی نہیں کرنی چاہیے بلکہ تجاویز بھی دینی چاہئیں۔ انہوں نے بارہا وضاحت کی اور کہا کہ حکومت پاکستان یا خفیہ اداروں کی جانب سے طالبان کو کوئی حمایت حاصل نہیں۔ ’اگر کسی نے سرحد پار کرلی اگر داد اللہ پاکستان آیا اور یقینن وہ آیا ہم اس کا پیچھا کر رہے تھے، ہم جانتے ہیں کہ وہ آیا اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ واپس چلا گیا۔ یہ نقل و حمل ہورہا ہے اور میں پوچھتا ہوں کہ وہ داد اللہ، جا کہاں رہا ہے، اس کا محفوظ ٹھکانہ پکڑیں اور اس کا گھیرا تنگ کریں اور اپنی سرحد کو کنٹرول کریں۔’اور اگر وہ دوبارہ آیا تو ہم اُسے گرفتار کرلیں۔‘ ’انہوں نے کہا کہ یہ ایک طریقہ کار کا معاملہ ہے اور کوئی بھی سرحدوں پر ہونے والی نقل حرکت کو کنٹرول کرنے کی بات نہیں کرتا۔ پوری کی پوری ذمہ داری پاکستان پر ڈالی جا رہی ہے کیوں؟ ہم اس کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||