BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 January, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی کانگریس، پاکستان پر نیا بِل

امریکی کانگریس میں پاکستان سے متعلق ایک نئے قانون پر غور کیا جارہا ہے جس کے تحت پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد کو امریکی صدر کی اس یقین دہانی سے مشروط کیا جا رہا ہے کہ پاکستان طالبان کے خاتمے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لا رہا ہے۔

ڈیموکریٹ اکثریت والے امریکی ایوانِ نمائندگان نے اس مجوزہ قانون کی منظوری دے دی ہے اور اب یہ معاملہ سینیٹ میں زیرِ غور ہے۔

اگر یہ تجویز سینیٹ سے بھی منظور ہونے کے بعد باقاعدہ قانون بن جاتی ہے تو یہ پچھلے پانچ برسوں کے پاک۔امریکہ تعلقات میں خاصی اہم تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظور کیے جانے والے بِل میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال سے امریکی صدر پر لازم ہوگا کہ وہ اراکینِ کانگریس کے لئے باقاعدہ "تصدیق نامہ جاری کریں کہ پاکستان اپنی سرزمین میں طالبان کی نقل و حرکت کچلنے کے لئے اپنی پوری کوششیں کر رہا ہے۔ اگر صدر ایسی تصدیق نہیں کرتے یا کر پاتے، تو امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنا تمام فوجی تعاون بند کرنا پڑے گا۔

واشنگٹن میں اس معاملے پر نظر رکھنے والی پاکستانی سفارتخانے کی اہلکار ممتاز بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مجوزہ قانون میں شامل اس شرط پر سخت اعتراض ہے جس کے بارے میں پاکستان نے بش انتظامیہ کو آگاہ کر دیا ہے جبکہ اراکینِ کانگریس سے رابطے جاری ہیں۔

بِل میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال سے امریکی صدر پر لازم ہوگا کہ وہ اراکینِ کانگریس کے لئے باقاعدہ "تصدیق نامہ جاری کریں کہ پاکستان اپنی سرزمین میں طالبان کی نقل و حرکت کچلنے کے لئے اپنی پوری کوششیں کر رہا ہے۔ اگر صدر ایسی تصدیق نہیں کرتے یا کر پاتے، تو امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنا تمام فوجی تعاون بند کرنا پڑے گا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظور کیے جانے والے بِل میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے طالبان اور ان کے ساتھ ملی ہوئی قوتوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خاتمے کو امریکی پالیسی کی اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح پاکستان میں سیاسی اور معاشی بہتری کے لئے امریکی مالی اعانت کی پیشکش کی گئی ہے لیکن اس کے لئے پاکستانی حکمرانوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک اعتدال پسند جمہوری پاکستان چاہتے ہیں جبکہ سن دو ہزار سات کے عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ِبل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنازع کشمیر کے حل کے لئے عالمی برادری کے ساتھ مِل کر پاکستان اور بھارت کی مدد کرنا امریکی پالیسی کا حصہ رہے گا۔

ڈیموکریٹ چاہتے ہیں کہ صدر بش خارجہ پالیسی میں اپنی ترجیحات درست کریں، عراق میں امریکی فوجیں بڑھانے کی بجائے وہاں سے فوجیں نکالنے پر غور کریں، اور واپس اپنی توجہ افغانستان اور اس کے ارد گرد ’دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ‘ پر مرکوز کریں۔ اور اس کے لئے ان کے نزدیک، پاکستان سے مطلوبہ تعاون حاصل کرنے کے لئے صدر بش کو پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔

پچھلے پانچ برسوں میں، بش انتظامیہ پاکستان پر طالبان کے خاتمے اور افغانستان میں دراندازی بند کرانے کے لئے مشرف حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ اس کے لئے بش حکومت ڈیموکریٹ اکثریت والی کانگریس کے مجوزہ قانون سے متفق ہے یا پھر اسے روکنے کی کوشش کرے گی۔

طالبانایک نئی بحث
باڑ اور بارودی سرنگوں پر ملا جلا ردِعمل
حامد کرزئیباڑ، بارودی سرنگیں
’پاک افغانستان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے‘
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
طالبانطالبان کے ساتھ
ہارون رشید کا طالبان کے سات سفر کا قصہ
طالبان (فائل فوٹو)طالبان کی تردید
’آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں ہے‘
مشرفمشرف امریکہ یاترا
ذاتی طور پر مشرف کے لیئے دورہ بڑا کامیاب رہا
پاکستان 157 نمبر پر
آزادئ صحافت پر آر ایس ایف کی نئی رپورٹ
اسی بارے میں
’پاکستان کے شکرگزار ہیں‘
23 August, 2006 | پاکستان
دھمکی کا سن کر حیرت ہوئی: بش
22 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد