BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل

طالبان
افغانستان الزام لگاتا ہے کہ طالبان پاکستان سے افغانستان داخل ہوتے ہیں
حکومت پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر مشتبہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے باڑ اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کے فیصلے پر قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد سے ملاجلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

کچھ قبائلی سمجھتے ہیں کہ اس طرح افغانستان کے الزامات سے چھٹکارا مل جائے گا جبکہ بعض لوگ اسے پشتونوں کو تقسیم کرنے کی ایک کوشش قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔

پاکستان کے افغان سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان نے پہلے پہل افغانستان سے مل کر اس منصوبے کو شروع کرنے کے ارادے کا کئی بار اظہار کیا تھا تاہم کابل اس کے حق میں نہیں تھا۔ اب اس کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں۔

قبائلی علاقوں میں کونسلروں کے اتحاد کے سیکٹری جنرل تاج محل آفریدی کہتے ہیں کہ اگر بارودی سرنگیں نصب کی گئیں تو دونوں جانب پختون مریں گے۔

پشتونوں کے خلاف سازش
 ہمارے مال مویشی ان علاقوں میں چرتے ہیں وہ ان کا شکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہماری عورتیں اور بچے آگ کے لیئے لکڑیاں چنے ان علاقوں میں گھومتے پھرتے ہیں وہ متاثر ہوں گے۔ میرے خیال میں یہ پشتونوں کے خلاف ایک سازش ہے
تاج محل آفریدی

’ہمارے مال مویشی ان علاقوں میں چرتے ہیں وہ ان کا شکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہماری عورتیں اور بچے آگ کے لیئے لکڑیاں چنے ان علاقوں میں گھومتے پھرتے ہیں وہ متاثر ہوں گے۔ میرے خیال میں یہ پشتونوں کے خلاف ایک سازش ہے۔‘

تاج محل آفریدی کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ میں قبائلیوں نے پہلی مرتبہ اسی ہزار فوجیوں کو مغربی سرحد پر آنے دیا۔ ’اس کا مقصد یہی تھا کہ سرحد پار دراندازی روکی جا سکے اور یہاں امن ہو۔‘

پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اس سرکاری فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ پشاور میں بدھ کے روز جاری ایک بیان میں اے این پی کے مرکزی سیکٹری اطلاعات زاہد خان نے اسے احمقانہ قدم قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور جہادی تنظیمیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق ہیں اور اس کا خراج پختونوں سے وصول کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں بڑی سیاسی قوت جمیعت علماء اسلام نے سرحد پر باڑ کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ جنوبی وزیرستان سے جے یو آئی کے سینیٹر سید صالح شاہ کا کہنا تھا کہ اس سے روز روز کے افغان الزامات سے چھٹکارا مل جائے گا۔

بچنے کا واحد راستہ
 اب ہلمند میں یا اورزگان میں تو وزیرستان سے لوگ نہیں جاتے۔ پھر وزیرستان چھوٹا سا علاقہ ہے یہاں اتنے لوگ نہیں کہ پورے افغانستان پر غالب ہو جائیں۔ ہم تمام قبائلی اس پر متفق ہیں کہ یہی واحد راستہ ہے ان الزامات سے بچنے کا
سینیٹر سید صالح

’اب ہلمند میں یا اورزگان میں تو وزیرستان سے لوگ نہیں جاتے۔ پھر وزیرستان چھوٹا سا علاقہ ہے یہاں اتنے لوگ نہیں کہ پورے افغانستان پر غالب ہو جائیں۔ ہم تمام قبائلی اس پر متفق ہیں کہ یہی واحد راستہ ہے ان الزامات سے بچنے کا۔‘

بارودی سرنگوں کو قبائلی دشمنیوں میں استعمال کرنے والے علاقے باجوڑ میں بھی اس حکومتی اقدام کی حمایت دیکھی جا رہی ہے۔ باجوڑ کے صدر مقام خار کے ایک دوکاندار عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے سوا دوسرا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے افغان شکایات سے بچا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق پچیس سو کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانا ناصرف مشکل بلکہ بھاری فنڈز کا متقاضی منصوبہ بھی ہے۔ خدشہ ہے کہ حکومت کم خرچ ہونے کی وجہ سے کہیں باڑ سے زیادہ بارودی سرنگیں نصب نہ کر دے جس سے مقامی آبادی ایک مستقل خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
افغان پاک تو تو میں میں
16 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد