افغانستان: پاکستانی ’ایجنٹ‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کے ایک انٹیلیجنس ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے جو القاعدہ کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے کا کام کرتا تھا۔ افغان صدر کے ترجمان کریم رحیمی کے مطابق ایجنٹ کو مشرقی صوبے کنار سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایجنٹ کے ایسی دستاویزات تھیں جو اس کے گناہگار ہونے کا ثبوت ہیں۔ یہ اعلان پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک افغان جنرل کے پکڑے جانے کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔ ترجمان نے پکڑے جانے والے مبینہ پاکستانی ایجنٹ کا نام سیعد اکبر بتایا جو کہ بقول ان کے آئی ایس آئی کے لیے کام کرتا ہے۔ افغانستان کافی عرصے سے یہ الزامات لگاتا رہا ہے کہ سرحد پار کے طالبان کے حملوں میں پاکستان بھی ملوث ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ترجمان کریم رحیمی کا کہنا ہے کہ سیعد اکبر کا تعلق شمالی پاکستان کے علاقے چترال سے ہے جس کی سرحد افغان صوبے نورستان سے ملتی ہے۔ افغان حکام کے مطابق سیعد اکبر آئی ایس آئی کے اس شعبے کے انچارج ہیں جس کا کام القاعدہ رہنماؤں سے تعلق قائم رکھنا ہے۔ حکام کے مطابق سیعد اکبر نے اپنی ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ کا اقرار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ان سرگرمیوں میں گزشتہ سال اسامہ بن لادن کو نورستان سے چترال لے جانا بھی شامل ہے۔ ابھی تک پاکستان کی طرف سے اس گرفتاری پر کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے‘14 December, 2006 | آس پاس دراندازی سے تنگ آچکے ہیں: کرزئی08 December, 2006 | آس پاس افغان صورتحال پر کرزئی دکھی11 December, 2006 | آس پاس ’افغان قیادت کی مقبولیت میں کمی‘17 December, 2006 | پاکستان افغان پاک تو تو میں میں16 December, 2006 | پاکستان پاک افغان تعلقات میں دلچسپی15 December, 2006 | پاکستان پاکستان زیادہ غیرمحفوظ: طالبان14 December, 2006 | پاکستان ’افغان رہنما تحمل سے کام لیں‘08 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||