BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: پاکستانی ’ایجنٹ‘ گرفتار
طالبان
افغانستان پہلے بھی پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگاتا رہا ہے
افغانستان نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کے ایک انٹیلیجنس ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے جو القاعدہ کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے کا کام کرتا تھا۔

افغان صدر کے ترجمان کریم رحیمی کے مطابق ایجنٹ کو مشرقی صوبے کنار سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایجنٹ کے ایسی دستاویزات تھیں جو اس کے گناہگار ہونے کا ثبوت ہیں۔

یہ اعلان پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک افغان جنرل کے پکڑے جانے کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔

ترجمان نے پکڑے جانے والے مبینہ پاکستانی ایجنٹ کا نام سیعد اکبر بتایا جو کہ بقول ان کے آئی ایس آئی کے لیے کام کرتا ہے۔

افغانستان کافی عرصے سے یہ الزامات لگاتا رہا ہے کہ سرحد پار کے طالبان کے حملوں میں پاکستان بھی ملوث ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ترجمان کریم رحیمی کا کہنا ہے کہ سیعد اکبر کا تعلق شمالی پاکستان کے علاقے چترال سے ہے جس کی سرحد افغان صوبے نورستان سے ملتی ہے۔

افغان حکام کے مطابق سیعد اکبر آئی ایس آئی کے اس شعبے کے انچارج ہیں جس کا کام القاعدہ رہنماؤں سے تعلق قائم رکھنا ہے۔

حکام کے مطابق سیعد اکبر نے اپنی ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ کا اقرار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ان سرگرمیوں میں گزشتہ سال اسامہ بن لادن کو نورستان سے چترال لے جانا بھی شامل ہے۔

ابھی تک پاکستان کی طرف سے اس گرفتاری پر کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
افغان پاک تو تو میں میں
16 December, 2006 | پاکستان
پاک افغان تعلقات میں دلچسپی
15 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد