BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 December, 2006, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغان قیادت کی مقبولیت میں کمی‘

محمد علی درانی
وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کا زیادہ تر حصہ پاک افغان تعلقات میں حال ہی میں پیدا ہونی والی تلخیوں کےبارے میں تھا
پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ذرائع ابلاغ میں ان کے خلاف بیان بازی سے خود افغان قیادت کی مقبولیت کم ہورہی ہے اور افغان عوام کی جذبات کو بھی ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے اتوار کو پشاور میں پریس کلب کے ’میٹ دی پریس ’ پروگرام میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جو بھی قیادت ان دو پڑوسی ممالک کے مابین تلخیاں پیدا کرنے کی کوشش کریگی وہ خود اپنے ملک کے اندر مقبولیت کھودی گی۔

ان کا کہنا تھا ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی سطح پر ملاقاتوں اور اجلاسوں میں تمام مسائل پر مثبت انداز میں پیش رفت ہوتی ہے تاہم ذرائع ابلاغ کی سطح پر بے احتیاطی سے کام لیا جاتا ہے جس سے بعض اوقات غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں‘۔

انہوں نے کہا ’پاکستان، افغانستان کا دوست ہے اور دوست رہے گا۔ ان دونوں ممالک کے مابین مذہبی، سماجی، تاریخی، جغرافیائی تعلقات اور رشتے قائم ہیں اور یہ مشکل وقت کے دوست ہیں، ان رشتوں کو کوئی کمزور نہیں کرسکتا‘۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان صدر حامد کرزئی کا خصوصی طورپر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان صدر جب پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں تو اس سےخود افغان عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچتا ہے۔

وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کا زیادہ تر حصہ پاک افغان تعلقات میں حال ہی میں پیدا ہونی والی تلخیوں کےبارے میں تھا اور اس سلسلے میں صحافیوں نے کئی سوالات بھی اٹھائے۔

.ایک سوال کے جواب میں محمد علی درانی نے کہا کہ قبائلی صحافی حیات اللہ خان کے قتل کے حوالے سے مقرر کی گئی انکوائری رپورٹ مکمل ہوچکی ہے جو جلد ہی منظر عام پر لائی جائیگی تاہم وہ اس سلسلے میں واضع جواب نہ دے سکے کہ رپورٹ کے مطابق حیات اللہ کو کس نے اغواء اورقتل کیا تھا۔

انہوں نے پشاور پریس کلب کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ مرحوم صحافی کے نام سے پشاور میں ایک یادگار تعمیر کرانے کےلیے ان کی معاونت کی جائے جس کےلیے تمام وسائل حکومت فراہم کریگی۔

اس سوال پر کہ صدر جنرل پرویز مشرف وفاق کی علامت ہونے کے باوجود جانب داری برتتے ہوئے ایک مخصوص سیاسی جماعت کےلیے عوامی اجتماعات میں ووٹ مانگتے ہیں تو اس پر وفاقی وزیر اطلاعات درانی کا کہنا تھا کہ صدر مشرف ایک منتخب صدر ہیں، جو پارٹی ان کو ووٹ دے گی تو جنرل مشرف بھی اسی انداز میں ان کی بھرپور حمایت کرینگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد