میزائل افغانستان سے لائے گئے تھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے ملنے والے میزائل روسی ساخت کے تھے جو افغانستان سے لائے گئے تھے تاہم اس کارروائی کے مقاصد جاننے کےلیئے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ سنیچر کی شام پشاور میں مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی سے خطاب میں آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ پارلمینٹ ہاؤس کے سامنے سے ملنے والے میزائل کس مقصد کے لیئے لائے گئے تھے یہ بات ابھی تک واضع نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان جو غلط فہمیاں یا رنجشیں پیدا ہوگئی تھیں وہ امریکہ میں صدر بش، صدر حامد کرزئی اور من موہن سنگھ کی صدر پرویز مشرف سے ملاقاتوں میں کافی حد تک دور ہوگئی ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو صدر مشرف کے ساتھ رابطے میں ہیں اور آئندہ انتخابات کے موقع پر ان کی پارٹی کا حکومتی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد ملک میں بہترین جمہوری کلچر کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ بےنظیر نے خود کہا ہے کہ وہ صدر مشرف کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ صدر مشرف کی بھی یہ خواہش ہے کہ ملک میں بہترین جمہوری و سیاسی کلچر کے فروغ کےلیئے سیاسی پارٹیوں کا وسیع تر اتحاد قائم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے نظیر حکومت کے ساتھ اتحاد کرنا چاہے تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آئی ایس آئی پر الزام تراشی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد آئی ایس آئی ہی کی مدد سے افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کی گئی۔ | اسی بارے میں ISI دفتر کے سامنے سے راکٹ برآمد07 October, 2006 | پاکستان پارلیمنٹ کے سامنے راکٹ ملے05 October, 2006 | پاکستان راکٹ معاملے کی تفتیش جاری: وزیر06 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||