BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 October, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راکٹ معاملے کی تفتیش جاری: وزیر

اسلام آباد
اطلاعات کے مطابق یہ راکٹ دو سے تین کلومیٹر تک کی دوری پر مار کر سکتے تھے
پاکستان کے وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور ایوانِ صدر کے نزدیک سے راکٹ ملنے کے واقعے کی تفتیش جاری ہے تاہم اس سلسلے میں فی الحال ذرائع ابلاغ کو مزید معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

اس سے قبل وفاقی سیکرٹری داخلہ کمال شاہ نے اسلام آباد میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس کے بعد نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایوانِ صدر کے سامنے سے راکٹ ملنے کے واقعے کی تفتیش کے سلسلے میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جار ہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ بدھ کی رات راولپنڈی کے ایوب پارک میں ہونے والا دھماکہ اور جمعرات کو اسلام آباد میں ایوانِ صدر کے پاس سے راکٹوں کا ملنا کہیں ایک ہی سلسلے کی کڑیاں تو نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کچھ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاہم کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ کمال شاہ نے بتایا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے تدارک کے لیئے حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔

بدھ کی رات راولپنڈی میں ہونے والے دھماکے اور اگلے ہی دن اسلام آباد کے حساس ترین علاقے سے راکٹوں کی برآمدگی نے عوام میں ان خدشات کو بھی جنم دیا ہے کہ قریباً تین برس قبل صدر جنرل مشرف پر جان لیوا حملوں کی کوشش کرنے والے عوامل دوبارہ سرگرم تو نہیں ہو رہے۔

جمعرات کی شب آفتاب شیر پاؤ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دہشت گردی چاہے کسی صورت میں بھی سامنے آئے حکومت اسے شکست دینے کا مصمم ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گرد صدر مشرف کے دورۂ امریکہ کے مثبت اثرات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ مذموم کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔

یاد رہے کہ جمعرات کی صبح اسلام آباد پولیس نے ایک فون کال موصول ہونے پر ایوان ِ صدر اور وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ کے سامنے واقع گرین بیلٹ سے دو روسی ساختہ ایک سو سات ایم ایم کے راکٹ برآمد کیئے تھے جنہیں بم ڈسپوزل سکواڈ نے فوجی حکام کی مدد سے ناکارہ بنا دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یہ راکٹ دو سے تین کلومیٹر تک کی دوری پر مار کر سکتے تھے۔ ان راکٹوں کے ملنے کے بعد صدر جنرل مشرف کی اسلام آباد آمد میں بھی ایک گھنٹے کی تاخیر ہوئی تھی اور وہ سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے علاقے کی مکمل تلاشی کے بعد ہی ’ایرا‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیئے کنونشن سنٹر پہنچے تھے۔

اسی بارے میں
پارلیمنٹ کے سامنے راکٹ ملے
05 October, 2006 | پاکستان
صدر ہاؤس کے قریب دھماکہ
04 October, 2006 | پاکستان
لشکر کے مبینہ کارکن گرفتار
04 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد