BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 October, 2006, 19:36 GMT 00:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر ہاؤس کے قریب دھماکہ

تازہ ترین
علاقے کو فوج اور پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہے
بدھ کی رات ساڑھے نو بجے کے قریب راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف کی رہائش گاہ کے قریب ایوب پارک میں دھماکے ہوا۔

پولیس اور فوج نے موقع پر پہنچ کر ایوب پارک والے علاقے کی ناکہ بندی کردی۔

دھماکہ فوج کے گولف کلب سے چالیس پچاس گز دور اور آرمی ہاؤس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔

دھماکے کے تین گھنٹے کے بعد پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایاگیا کہ یہ دھماکہ رات نو بج کر پینتیس منٹ پر سنا گیا، اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے، پولیس کو ایوب پارک کے اندر سے دھماکہ خیز مواد ملا ہے اور وہ اس جگہ کی تلاشی میں مصروف ہیں۔

 دھماکے کے تین گھنٹے کے بعد پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گہا گیا کہ یہ دھماکہ رات نو بج کر پینتیس منٹ پر سنا گیا، اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے، پولیس کو ایوب پارک کے اندر سے دھماکہ خیز مواد ملا ہے اور وہ اس جگہ کی تلاشی میں مصروف ہیں

اس سے پہلے فوج کے ترجمان شوکت سلطان نے بیان دیا ہے کہ دھماکے کا صدر مشرف یا آرمی ہاؤس سے کوئی تعلق نہیں۔

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات محمد طارق عظیم نے کہا تھا کہ ’یہ ایک چھوٹا دھماکہ تھا اور صدر مشرف کی رہائش گاہ سے تین میل کے فاصلے پر ہوا۔‘

دھماکے کے فوراً بعد فوج، پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے پارک کے دروازے بند کر کے اسے گھیرے میں لے لیا

کچھ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے فضا سے کوئی چیز پارک میں گرتے دیکھی جس کے بعد زور دار دھماکے ہوئے۔

ڈی آئی جی پولیس نے بتایا ہے کہ پارک کے اندر سے دھماکہ خیز مواد پڑا ملا ہے۔

دھماکوں کے فوراً بعد فوج، پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے پارک کے دروازے بند کر کے اسے گھیرے میں لے لیا اور پارک کے اندر موجود لوگوں کو باہر جانے اور باہر موجود لوگوں کو اندر جانے سے روک دیا۔

تاہم ڈیڑھ گھنٹے بعد پارک کے اندر موجود لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دے گئی۔

دھماکوں کے فوراً بعد ارد گرد کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور لوگوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی۔دھماکوں کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ایدھی سروس کی چند ایمبولنسیں پارک کے اندر داخل ہوئیں۔

اسی بارے میں
ڈی جی خان بم دھماکہ: دو ہلاک
23 September, 2006 | پاکستان
’صدر پر حملہ: ملزم کون؟
09 January, 2004 | پاکستان
مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت
14 December, 2003 | پاکستان
’پانچ بم استعمال کیے گئے‘
16 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد