BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 October, 2006, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ISI دفتر کے سامنے سے راکٹ برآمد

پانچ اکتوبر: ایوان صدر کے سامنے سے دو راکٹ ملے تھے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے سنیچر کے روز پولیس نے دو مزید راکٹ برآمد کیے ہیں جو کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنادیے ہیں۔

یہ راکٹ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے صدر دفتر کے قریب سے ملے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ 107mm کے یہ راکٹ شاہراہ کشمیر کے قریب واقع ’گرین بیلٹ‘ سے ملے ہیں۔ پولیس کی بتائی گئی جگہ کے سامنے ’آئی ایس آئی‘ کا صدر دفتر بہت کم فاصلے پر واقع ہے۔

سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ راکٹ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیے گئے ہوں۔

پولیس کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ راکٹ ملنے کے بارے میں پولیس حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔

آئی ایس آئی کا دفتر کم فاصلے پر
 اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ 107mm کے یہ راکٹ شاہراہ کشمیر کے قریب واقع ’گرین بیلٹ‘ سے ملے ہیں۔ پولیس کی بتائی گئی جگہ کے سامنے ’آئی ایس آئی‘ کا صدر دفتر بہت کم فاصلے پر واقع ہے۔
صبح جب نو بجے کے قریب یہ راکٹ ملنے کی اطلاع آئی تو بعض مقامی ٹی وی چینلز نے اسلام آباد کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سکندر حیات کے حوالے سے خبر نشر کی تھی کہ یہ راکٹ برآمد کرنے کی مشق تھی۔

ان کے مطابق پولیس نے خود راکٹ جنگل میں رکھے تھے تاکہ سیکورٹی حکام انہیں تلاش کرکے ناکارہ بنانے کی مشق کرسکیں۔

لیکن ان کے اس موقف کے بعد جب پولیس حکام نے باضابطہ بیان جاری کیا تو اس میں اپنے سینیئر افسر کے بیان کے برعکس موقف بیان کیا گیا ہے۔ جب سکندر حیات کا موقف جاننے کے لیے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کے آپریٹر نے بتایا کہ ’صاحب مصروف ہیں اور راکٹ برآمد ہونے کے بارے میں پولیس کے بیان پر اکتفا کریں۔‘

واضح رہے کہ پانچ اکتوبر کو پارلیمان کے سامنے سے دو روسی ساخت کے راکٹ اور ایک لانچر ملے تھے۔ اس بارے میں حکام نے بتایا تھا کہ ان راکٹوں سے تاریں بھی لگی تھیں جوکہ موبائل فون سے جڑی ہوئی تھیں۔

ان کے مطابق بظاہر انہیں لگتا تھا کہ یہ راکٹ ریموٹ کنٹرول سے چلانے کی سازش تھی۔

پانچ اکتوبر کو یہ راکٹ صدر جنرل پرویز مشرف کی راولپنڈی سے اسلام آْباد آمد کے محض دو گھنٹے پہلے برآمد ہوئے تھے۔ بعض تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ شاید یہ راکٹ صدر کی گاڑیوں کے قافلے پر چلائے جاتے۔

چار اکتوبر کو راولپنڈی میں واقع صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی رہائش گاہ کے قریب ایوب پارک میں ایک دھماکہ ہوا تھا۔ جس کے متعلق بتایا گیا تھا کہ وہ ایک راکٹ پھٹنے کا دھماکہ تھا۔

صدر کی رہائش گاہ کے قریب دھماکے اور ان کے دفتر کے سامنے سے راکٹ ملنے کے بعد ان کی پہلے سے سخت سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

حملہ آور کو پھانسی
صدر مشرف کے حملہ آور کو پھانسی دے دی گئی
اسی بارے میں
صدر ہاؤس کے قریب دھماکہ
04 October, 2006 | پاکستان
پارلیمنٹ کے سامنے راکٹ ملے
05 October, 2006 | پاکستان
مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل
22 September, 2006 | پاکستان
مشرف پر حملہ، مجرم منتقل
27 August, 2005 | پاکستان
مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت
14 December, 2003 | پاکستان
’پانچ بم استعمال کیے گئے‘
16 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد