’وجہ افغانستان یا وزیرستان ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کو جمعہ کی شام جس زوردار بم دھماکے نے ہلا کر رکھ دیا اس کے بارے میں حکومت تو فی الحال کچھ کہنے سے انکار کر رہی ہے کہ یہ کن لوگوں کی کارروائیاں ہوسکتی ہے۔ لیکن اس بارے میں عوامی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ اس دھماکے میں سات افراد ہلاک جبکہ بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پشاور کی انتہائی مصروف جی ٹی روڈ پر افطاری سے آدھ گھنٹہ قبل بم دھماکے نے پشاور کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر 80 کی دہائی یاد دلا دی ہے۔ اُن دنوں اسی قسم کے بم دھماکے تقریبا روزانہ ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت خیال تھا کہ یہ دھماکے روسی مداخلت کے خلاف پاکستان کے مجاہدین کو امداد کے جواب میں کیئے جاتے تھے۔ حکام افغان خفیہ ایجنسی خاد پر اس کا الزام لگاتے تھے۔ گزشتہ ایک ماہ میں پشاور میں اس قسم کا یہ چوتھا دھماکہ تھا۔ اس سلسلے کا پہلا دھماکہ تھانہ غربی کی پارکنگ میں، دوسرا قلعہ بالا حصار کے عقب میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اور تیسرا جی ٹی روڈ پر ہی بس ٹرمینل کے قریب ہوا تھا۔ ان سب میں دو چار لوگ معمولی زخمی ہوئے تھے تاہم جمعے کا دھماکہ سب سے زیادہ زوردار اور جان لیوا تھا۔ بعض لوگ زرعی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کو بھی اسی سلسلے کی کڑی مانتے ہیں تاہم اس تدریسی مرکز کے اہکار کہہ چکے ہیں کہ یہ ناراض طلبہ کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس دھماکے کے علاوہ دیگر چار کے بارے میں واضح نہیں کہ وہ کن لوگوں یا گروہوں کی کارروائی تھی۔ حکومت اس بارے میں ابھی تک کسی واضح موقف کے ساتھ سامنے نہیں آئی ہے۔
جمعہ کا دھماکہ تاریخی قلعہ بالا حصار کے سامنے ہوا جوکہ فرنٹیر کور ملیشیا کا ہیڈکواٹر بھی ہے۔ اس سے چند روز قبل ایک دھماکہ قلعے کے عقب میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بھی ہوا تھا جس میں تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان دھماکوں کا فرنٹیر کور سے کوئی تعلق ہے یا نہیں یہ بھی ابھی واضح نہیں۔ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس رفعت پاشا تسلیم کرتے ہیں کہ ان تمام دھماکوں میں ایک ربط موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بس ٹرمنل اور جمعہ کے دھماکے میں ایک ہی قسم کا دیسی ساخت کا بم استعمال کیا گیا تھا۔ ’پہلے ان دھماکوں کا مقصد صرف خوف و ہراس پھیلانا تھا لیکن اب معاملہ آگے بڑھ چکا ہے۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ہر ریڑھی یا ہر شخص پر نظر رکھنا ممکن نہیں۔‘ حکومت کی جانب سے جو بھی گول مول جواب ملیں عوامی سطح پر لوگوں نے ان دھماکوں کے بارے میں اپنی سوچ کے مطابق قیاس آرائیاں شروع کر دیں ہیں۔ کچھ کے خیال میں یہ افغانستان جبکہ کئی دیگر کی رائے میں یہ وزیرستان کے ساتھ جڑے ہوسکتے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے پشاور سے رکن سرحد اسمبلی سید ظاہر شاہ نے جائے وقوعہ کے دورے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ پاکستان کی بھارت اور افغانستان سے متعلق پالیسیوں کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی حکومت ہر مسئلے کا حل زور کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ایسا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ دھماکہ بھارت سے زیادہ افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیئے حسبِ معمول ایس پی پشاور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے۔ تاہم اس سے قبل دھماکوں کی تحقیقات کے نتائج کیا رہے اس بارے میں ابھی تک حکومت نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ادھر صوبائی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لیئے ایک لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیئے پچاس جبکہ معمولی زخمیوں کے لیئے پچیس ہزار روپے کے معاوضے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں پشاور: دھماکے میں سات افراد ہلاک20 October, 2006 | پاکستان پشاور کے ہسپتال میں دھماکہ 06 October, 2006 | پاکستان پشاور: دھماکے میں کئی گاڑیاں تباہ18 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||