BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: دھماکے میں سات افراد ہلاک

پشاور
پشاور میں حالیہ ہفتوں میں وقفے وقفے سے دھماکے ہوتے رہے ہیں
صوبائی دارالحکومت پشاور میں افطاری سے تھوڑی دیر قبل ایک طاقت ور بم دھماکے کے نتیجے میں ایک جوان سال لڑکی سمیت سات افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمیوں میں پانچ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی جگہ پر عام طور پر فٹ پاتھ پر روزمرہ اشیاء کی اسٹال لگے تھے جن میں چوڑیوں کے کئی اسٹال بھی شامل تھے۔ مرنے والوں میں ایک تیرہ سالہ چوڑی بیچنی والی لڑکی بھی شامل ہے جبکہ دو دیگر چوڑیاں بیچنے والی خواتین شدید زخمی ہوگئی ہیں جن میں ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ ایک گھریلو ساخت کا طاقت ور بم تھا جو فٹ پاتھ پر ایک ریڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم زخمیوں میں زیادہ تر مقامی افراد ہیں جو سودا سلف خرید کر افطاری کےلیے گھروں کو جارہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آوازیں دور دور تک سنی گئی۔آئی جی پولیس رفعت پاشا نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ دھماکہ ایک شرمناک حرکت ہے اور جن لوگوں نے یہ جرم کیا ہے وہ یقیناً مسلمان نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور اس سلسلے میں تفتیش شروع کردی ہے۔

ایک عینی شاہد چالیسں سالہ زخمی محمد ایاز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بازار سے سودا لے کر گھر جارہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس کے نیجے میں وہ زخمی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آوازیں ابھی بھی ان کے کانوں میں گونج رہی ہے۔

دھماکہ کے فوری بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچا تو وہاں پر ایمرجنسی کے باہر اور اندر ایک افراتفری کا عالم تھا ہر طرف زخمی خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ہسپتال انتظامیہ اس ایمرجنسی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔

واضع رہے کہ پشاور میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ پانچواں دھماکہ تھا۔ اس سے پہلے شہر کے مختلف علاقوں میں چار بم دھماکے ہوچکے ہیں جس میں کچھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ تاہم ان میں یہ سب سے طاقت ور بم دھماکہ تھا۔

اسی بارے میں
زرعی یونیورسٹی میں دھماکہ
05 October, 2006 | پاکستان
پشاور کے ہسپتال میں دھماکہ
06 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد