BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 October, 2006, 03:04 GMT 08:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور کے ہسپتال میں دھماکہ

ہسپتال میں دھماکے اتنا شدید تھا جس سے کئی وارڈوں کے شیشے ٹوٹ گئے
صوبائی دارلحکومت پشاور کے بڑے طبی مرکز لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایک بم دھماکے میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یہ دھماکہ جمعرات کی شام سات بجے کے قریب کارڈیالوجی بلاک کی پشت پر واقع جھاڑیوں میں ہوا جس سے قریبی وارڈوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ وہاں پر کھڑی دو ا یمبولینسوں اور ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

ہسپتال میں قائم ایمرجنسی پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں معمولی زخمی ہونے والے تین افراد جن میں دو ہسپتال کے اہلکار بتائے جاتے ہیں کہ ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا۔

یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ آج کا یہ دھماکہ تخریبی کاروائی کا نتیجہ تھا یا یہ کوئی اتفاقی حادثہ تھا تاہم بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار تحقیقات کررہے ہیں اور ان کی رپورٹ آنے کے بعد حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹینڈ نٹ ڈاکٹر مختار

ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ کھلی جگہ پر ہوا جس کی وجہ سے اتنا نقصان نہیں ہوا تاہم اگر یہ عمارت کے اندر ہوتا تو اس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوسکتا تھا۔

پشارو شہر میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ دوسرا دھماکہ ہے۔ اس سے پہلے ایک دھماکہ پشاور صدر میں واقع غربی سٹیشن کی حدود میں ہوا تھا جس میں دو درجن سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا تھا۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹینڈ نٹ ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ آج کا یہ دھماکہ تخریبی کاروائی کا نتیجہ تھا یا یہ کوئی اتفاقی حادثہ تھا تاہم بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار تحقیقات کررہے ہیں اور ان کی رپورٹ آنے کے بعد حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے کارڈیالوجی اور دیگر قریبی وارڈوں کے شیشے ٹوٹ گئے اورا اس کی آواز بھی دور دور تک سنی گئی۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد تمام وارڈوں سے لوگ نکل آئے اور افراتفری کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔

واضع رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران پشاور شہر میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے جبکہ اغواء برائے تاوان ، قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت ان جرائم کو روکنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں
زرعی یونیورسٹی میں دھماکہ
05 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد