افغانستان میں چار پاکستانی قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں بھارتی کمپنی میں کام کرنے والے چار پاکستانیوں کی لاشیں اتوار کو رات گئے بلوچستان کے شہر لورالائی پہنچ گئی ہیں افغان حکام نے اتوار کو چمن میں لاشیں پاکستانی حکام کے حوالے کی ہیں جنہیں ان کے آبائی علاقے لورالائی میں ناصر آباد لایا گیا ہے۔ انتظامی افسران نے بتایا ہے کہ انھیں رات گئےدفن کر دیا گیا ہے۔ قندھار سے پاکستان واپسی پر لشکر گاہ کے مقام پر چاروں افراد کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ چاروں افراد کے پاس کوئی ساڑھے چار لاکھ روپے اور ایک گاڑی تھی جو چھین لی گئی ہے۔ چاروں افراد کے نام خدائی داد ، باز محمد، عبدالخالق اور تعویذ بتائے گئے ہیں اور ان کا تعلق لورالائی کے ناصر قبیلے سے تھا۔ یہ لوگ گزشتہ سال اگست سے افغانستان میں تھے جہاں وہ ایک بھارتی کمپنی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کی عمریں تیس اور اڑتیس سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔ لورالائی سے ان کے رشتہ داروں نے بتایا ہے کہ چاروں افراد پچھلے بدھ سے غائب تھے۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ان افراد کو افغانستان میں مشتبہ طالبان کی طرف سے بھارتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی اور افغانیوں کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ بھارتی کمپنی کے ساتھ کام نہ کریں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ یہ ایک ڈکیتی کی واردات میں ہلاک کر دیے گئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں پاکستانیوں کی لاشیں دفنا دی گئیں23 March, 2006 | پاکستان ’قتل میں آئی ایس آئی ملوث نہیں‘14 May, 2006 | پاکستان الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان19 May, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان اہم افغان عہدیدار، لورالائی سے گرفتار23 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||