اہم افغان عہدیدار، لورالائی سے گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر لورالائی کے قریب قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں تین افغانستان کے قلات صوبے کے اہم عہدیدار بتائے گئے ہیں۔ لورالائی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ان تینوں افغان عہدیداروں کو پاکستان کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان افراد کی صحیح شناخت کرنے کے لیئے تفتیش جاری ہے۔ مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ کہ ان چھ افراد کو لورالائی سے کوئی بارہ کلومیٹر دور ایک افغان مہاجر کیمپ سےگرفتار کرکے کوئٹہ لے جایا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر ان گرفتاریوں کی تصدی نہیں ہو سکی۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے شہر پشین کے قریب منگل کو عزیزاللہ آغا نامی شخص کی تدفین کی گئی ہے۔ اس شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ افغانستان میں حالیہ جھڑپوں میں ہلاک ہوا۔ جنوبی افغانستان میں جاری تشدد آمیز کارروائیوں کے حوالے سے افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین تلخ بیانات سامنے آئے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان سے لوگ آکر افغانستان میں تشدد آمیز کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اسے افغان حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے۔ یہاں کوئٹہ میں پولیس حکام یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ افغان باشندے بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ پولیس حکام نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ کوئٹہ کے پرانے اڈے پر دھماکے میں زخمی ہونے والا شحص کسی تخریبی کارروائی کے لیے جا رہا تھا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔ | اسی بارے میں طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش21 May, 2006 | پاکستان تحصیلدار قتل، 3 کھمبے اڑا دیے گئے15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||