BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 December, 2006, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک افغان تعلقات میں دلچسپی

مشرف،کرزئی
طالبان شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان میں سخت تناؤ موجود ہے
یورپی یونین نےافغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے قیام کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور افغانستان کے متعلق یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی نے اس سلسلے میں جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے تفصیلی بات چیت کی ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی فرینکسس ویندریل نے صدر جنرل پرویز مشرف کو پاکستان اور افغانستان میں بہتر رابطوں کے قیام کے لیئے یورپی یونین کی دلچسپی کے متعلق آگاہ کیا۔

لیکن بیان میں یہ واضح نہیں کہ یورپی یونین کی اس پیشکش پر پاکستان حکومت نے کیا رد عمل ظاہر کیا اور یورپی یونین نے کیا تجاویز پیش کی ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی کو بتایا کہ سرحدوں کی حفاظت پاکستان، امریکہ، اتحادی افواج اور نیٹوفورسز کی مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن شدت پسندی لازمی طور پر افغانستان کا مسئلہ ہے۔

یورپی یونین کے نمائندے ایسے وقت پاکستان پہنچے ہیں جب طالبان شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان میں سخت تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔

حال ہی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بیان دیا تھا کہ پاکستان افغان عوام کو غلام بنانا چاہتا ہے مگر وہ ایسا کر نہیں سکتا۔ ان کا یہ بیان اب تک ہونے والی الزام تراشی کے تناظر میں ایک سخت ترین بیان تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے ان کے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

شدت پسندی افغانستان کا مسئلہ
 صدر جنرل پرویز مشرف نے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی کو بتایا کہ سرحدوں کی حفاظت پاکستان، امریکہ، اتحادی افواج اور نیٹوفورسز کی مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن شدت پسندی لازمی طور پر افغانستان کا مسئلہ ہے۔
دفترِ خارجہ

صدر جنرل پرویز مشرف اور افغانستان کے متعلق یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی کی ملاقات کی زیادہ تفصیل تو نہیں بتائی گئی لیکن دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور قبائلی علاقوں کے بارے میں پاکستان حکومت کی حمکت عملی کے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،۔

بیان کے مطابق صدر نے ملاقات میں اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین شدت پسندوں کو استعمال کرنے نہیں دے گا اور اس نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے دستیاب وسائل کے تحت جو کچھ ممکن ہے وہ کیا ہے۔

صدر نے زور دیا کہ عالمی برادری پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو اپنے وطن واپس بھجوانے کے لیے مزید کوششیں کریں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین کے نمائندے نے پاکستان کے نکتہ نظر کو سمجھا اور کہا کہ خطے میں استحکام کے لیئے جو کچھ صدر جنرل پرویز مشرف کر رہے ہیں اُسے مغربی دنیا کی حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں
قصوری کابل کے دورے پر
07 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد