قصوری کابل کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری آج یعنی جمعرات کو کابل کےدو روزہ دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔ مسٹر قصوری افغانستان کی حکومت سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے پشتون قبائل کا مشترکہ جرگہ منعقد کرنے اور سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرنے سمیت دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ چند روز قبل وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نےمسٹر قصوری کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ مسٹرخورشید قصوری اپنے افغانی ہم منصب سے ملاقات میں سرحدی صورتحال بہتر کرنے کے متعلق اپنی تجاویز پیش کرینگے۔ مشترکہ جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف اور حامد کرزئی کی صدر بش کے ساتھ گزشتہ ستمبر میں ہونے والی ملاقات میں طے ہوا تھا۔ اہم سوال یہ ہے کہ ان جرگوں میں کن کن افراد کی نمائندگی ہوگی اور اس کے اوقات کیا ہونگے۔ انہیں امور کو طے کرنے کے لیے مسٹر قصوری افغانستان کے دورے پر ہیں۔ اس سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ مشترکہ جرگے کے ذریعے عوام کو شدت پسند طالبان کی حمایت نہ کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ افغانستان کی حکومت اور نیٹو کی طرف سےاس طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں کہ طالبان اپنی سرگرمیاں پاکستان کے اندر سےچلا رہے ہیں لیکن پاکستان انہیں روکنے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ طالبان مسائل کو فوجوں کی موجودگی حل نہیں کر سکتی بلکہ اسکے لیے سیاسی عمل اور بات چیت میں قبائیلیوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ امکان ہے کا حامد کرزائی پاکستان کی ان تجاویز پر غور کرینگے اور طالبان کو شکست دینے کے لیے بعض نئی تجاویز پر غور ہوگا اور نئی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’شمالی کوریا سے مذاکرات کریں‘16 October, 2006 | پاکستان ممبئی بم دھماکے: پاکستانی یقین دہانی 02 October, 2006 | پاکستان راشد رؤف: حوالگی کی درخواست28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان ’بھارت سے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے‘07 August, 2006 | پاکستان ’اسامہ زندہ ہیں تو افغانستان میں ہیں‘15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||