’بھارت سے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے امید ظاہر کی ہے کہ سفارت کاروں کی حالیہ ملک بدری سے بھارت کے ساتھ پہلے سے تعطل کا شکار امن مذاکرات کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ متاثر ہوں گے۔ پیر کو ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے ایک سفارت کار کو ملک بدر کیئے جانے کے بارے میں سوالات کا خاصے محتاط انداز میں جواب دیا اور بظاہر لگ رہا تھا کہ وہ اس معاملے کو اچھالنا نہیں چاہتیں۔ جب ان سے پوچھا کہ عام تاثر ہے کہ سفارت کاروں کی ملک بدری سے ماحول خراب ہوگا تو انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں ماحول خراب کرنے میں بہت ساری چیزوں کا تعلق ہے جب بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں تو بھی فضا خراب ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس سے آگے چلنا ہوگا‘۔ انہوں نے اٹھارہ اپریل سن دو ہزار پانچ میں صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی دلی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں دونوں رہنماؤں نے واضح طور پر کہا تھا کہ امن مذاکرات کا عمل ناقابل واپسی ہے اور دونوں ممالک کی قیادت دہشت گردی کے واقعات کو بات چیت پر اثر انداز نہیں ہونے دے گی۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات علیحدہ معاملہ ہے اُنہیں کسی دہشت گردی کے واقعے یا کسی اور معاملے کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا جامع مذاکرات پاکستان، بھارت، جنوبی ایشیا اور پوری دنیا کے مفاد میں ہیں اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ بات چیت کسی فریق کی جانب سے کسی ملک کے لیئے کوئی رعایت ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ممبئی کی ریل گاڑیوں میں یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں کم از کم ایک سو اسی افراد ہلاک ہوئے تھے جن سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امن مذاکرات کے تیسرے دور کا جائزہ لینے کے لیئے بیس جولائی کو دلی میں ہونے والی خارجہ سکریٹریوں کی سطح پر بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔ ڈھاکہ میں چند روز قبل علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے ایک اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے خارجہ سکریٹریوں نے بات چیت کو آگے بڑھانے کی بات کی تھی لیکن تاحال آئندہ ملاقات کی تاریخیں طے نہیں ہوسکی ہیں۔
بریفنگ میں ترجمان نے لبنان سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ پاکستان بارہا عالمی برادری سے کہہ چکا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیئے اقدامات کرے۔ تاہم انہوں نے لبنان میں پاکستانی فوج کی تعیناتی کے بارے میں کہا کہ ایسی کوئی تجویز فی الوقت زیر غور نہیں اور اگر ایسا ہوا بھی تو اقوام متحدہ اور لبنان کی رضامندی کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا۔ امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیئے ملنے والے جدید ہیلی کاپٹر اور اسلحہ ’دیگر مقاصد‘ کے لیئے استعمال کرنے پر احتجاج کرنے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ تاحال امریکی اعتراضات کے بارے میں انہیں علم نہیں۔ واضح رہے کہ بعض بلوچ شدت پسند رہنما حکومت پر امریکہ سے ملنے والا اسلحہ بلوچستان میں استعمال کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ ترجمان نے جوہری ری ایکٹر کی تعمیر روکنے کے بارے میں امریکی دباؤ کے تاثر کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ امریکہ کا ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ | اسی بارے میں سفارتکاروں کی ملک بدری کے حکم05 August, 2006 | انڈیا عاصمہ سے بھارت کی معذرت 03 August, 2006 | انڈیا وزارت خارجہ پریشان، منموہن کا دورۂ پاکستان ۔۔۔16 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||