BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاصمہ سے بھارت کی معذرت

عاصمہ جہانگیر
فائل فوٹو
بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستان میں حقوق انسانی کی سرکردہ کارکن عاصمہ جہانگیر کی تلاشی لیئے جانے کے واقعے پر ان سے معذرت کی ہے۔

محترمہ عاصمہ ایک کانفرنس کے سلسلے میں دلی میں تھیں جب منگل کی رات ہوٹل کے کمرے میں دو پولیس والوں نے داخل ہو کر ان کی الماری اور بیگ کی تلاشی لی۔

اس وقت ان کے کمرے میں جسٹس فخرالدین جی ابراہیم اور آئی اے رحمان بھی موجود تھے۔ پولیس والے یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون ہیں اور ان کے کمرے میں کیوں ہیں۔ بعد میں پولیس نے ان دونوں کے کمروں کی بھی تلاشی لی۔

ہندوستانی قانون کے مطابق کسی عورت کی تلاشی کے وقت خاتون پولیس کا موجود ہونا لازمی ہے لیکن عاصمہ کی تلاشی میں اس بنیادی اصول کا خیال نہیں رکھا گیا۔

تلاشی لینے والے پولیس افسروں کا کہنا تھا کہ وہ یوم آزادی سے قبل ہائی الرٹ کی وجہ سے یہ تلاشی لے رہے تھے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کے ترجمان سنجۓ بارو نے اس واقعے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ تلاشی ’معمول کے عمل کا حصّہ تھی کیونکہ پورے شہر میں زبردست چوکسی برتی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعظم نے محترمہ عاصمہ کو فون کیا اور تلاشی کے عمل سے ان کو جو تکلیف پہنچی اس کے لیئے معذرت کا اظہار کیا‘۔ منموہن سنگھ نے ’انہیں دوبارہ ہندوستان آنے کی دعوت بھی دی ہے‘۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محترمہ عاصمہ کے ہوٹل میں نیپال اور سری لنکا کے مندوبین بھی ٹھہرے ہوۓ تھے لیکن ان کی تلاشی نہیں لی گئی۔

 اگر اس طرح کی حرکت عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیت کے ساتھ ہوسکتی ہے تو آپ سو چ سکتے ہیں کہ عام پاکستانی کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے
گوتم نولکھا

اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ حال ہی میں ممبئی میں ایک کانفرنس میں شرکت کے دوران پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سفارت کار کی بھی تلاشی لی گئی تھی جبکہ ویانہ کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو اس طرح کی تلاشی سے الگ رکھا گیا ہے۔

حقوق انسانی کے کارکنوں نے ان واقعات پر نکتہ چینی کی ہے اور اسے شرمناک قرار دیا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کے گوتم نولکھا نے کہا کہ ’اگر اس طرح کی حرکت عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیت کے ساتھ ہوسکتی ہے تو آپ سو چ سکتے ہیں کہ عام پاکستانی کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے‘۔

انہوں نے وزیراعظم کی معافی کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ ’اس سے پتہ چلتا ہے اوپر امن کی باتیں ہیں اور پیچھے صرف شک کا کلچر ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد