ذیشان حیدر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | تاحال انڈیا کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں |
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا کی جانب سے ممبئی بم دھماکوں کے حوالے سے ٹھوس ثبوت فراہم کیئے گئے تو پاکستان انڈیا سے تعاون کرے گا۔ دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ تاحال انڈیا کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں جن کا مقصد انڈیا میں موجود دہشت گرد گروہوں پر سے توجہ ہٹانا ہے۔
 | فورم: ممبئی دھماکوں کا الزام  تسنيم صاحبہ ، انڈيا نے صرف پاکستانی باشندوں پر الزام نہيں لگايا ہے ، اس نے تو آئی ايس آئی کو مورودِ الزام ٹھہرايا ہے۔ پہلے تو آپ نے سب الزام يکسر مسترد کرديئے تھے ۔۔ اب يہ اگر مگر کيوں؟  سید رضا، سرے، برطانیہ |
تسنیم اسلم نے کہا کہ اگر انڈیا نے بم دھماکوں میں پاکستانی باشندوں کے ملوث ہونے کے ثبوت دیئے گئے تو حکومتِ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے مربوط نظٌام کے تحت انڈیا سے تعاون کرے گی۔ تاہم اس سلسلے میں کارروائی پاکستانی حکومت ہی کرے گی اور کسی بھی شخص کو انڈیا کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔یاد رہے کہ اتوار کو انڈیا کے نئے خارجہ سیکرٹری شیو شنکر مینن نے پاکستان کو ممبئی دھماکوں کی تفتیش سے مطلع رکھنے اور ثبوت فراہم کرنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر دو الگ الگ مسائل ہیں اور دہشت گردی کے معاملے کو اجاگر کر کے عالمی توجہ کشمیر کے معاملے سے نہیں ہٹائی جاسکتی۔ ترجمان نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان اور انڈیا کے سیکرٹری خارجہ ماہِ رمضان کے بعد ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دونوں سیکرٹریوں کے درمیان رابطہ بھی ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افراد کی گمشدگی سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی حقوقِ انسانی کی تنظیمیں ان ممالک کی ناقد رہی ہیں جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں اور پاکستان بھی ایک ایسا ہی ملک ہے۔  | دہشت گردی اور مسئلۂ کشمیر  دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر دو الگ الگ مسائل ہیں اور دہشت گردی کے معاملے کو اجاگر کر کے عالمی توجہ کشمیر کے معاملے سے نہیں ہٹائی جاسکتی  |
انہوں نے کہا کہ بنیادی شہری حقوق اور زندہ رہنے کے بنیادی حق میں توازن ضرروی ہے اور حکومت ِ پاکستان نے اس معاملے میں فیصلے عوامی مفادات کو سامنے رکھ کر کیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ بھی پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد میں تھا اور پاکستان اپنی کارروائیوں کے سلسلے میں نہ تو کسی ملک کے دباؤ میں ہے اور نہ ہی اسے کسی ملک کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ |