ممبئی: پولیس افسر کی پراسرار موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ جولائی سن دو ہزار چھ کو ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سینئر تحقیقاتی افسرونود وٹھل بھٹ پراسرار حالت میں مردہ پائے گئے۔ پولیس ان کی موت پر قتل اور خودکشی کے امکانات کا شک کر رہی ہے۔ ریلوے پولیس کو ان کی لاش پیر کی شب ساڑھے نو بجے کے قریب مشکوک حالت میں ریل کی پٹریوں کے درمیان ملی۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ونود بھٹ اس وقت انسداد دہشت گردی عملہ کے تفتیشی افسر تھے۔ اس سے قبل وہ ممبئی میں بارہ مارچ 1993 میں ہوئے بم دھماکوں کی جانچ سے بھی منسلک رہے تھے۔ تیرہ سال بعد ان دھماکوں کے مقدمہ کا فیصلہ آئندہ ماہ ستمبر میں آنے کی توقع ہے۔
انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ کے پی رگھوونشی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھٹ کو ایک سنجیدہ اور ذمہ دار افسر کے طور پر جانتے تھے انہوں نے بم دھماکوں کی تفتیش میں کافی اہم رول ادا کیا تھا۔ رگھوونشی کا کہنا تھا کہ موت کی اصل وجہ تو وہ نہیں بتا سکتے کہ یہ حادثہ تھا یا خودکشی لیکن انہیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق اگر یہ خودکشی ہے تو شاید اس کی وجوہ کچھ ذاتی نوعیت کی ہو سکتی ہیں لیکن ریلوے پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا موت حادثہ تھی یا خودکشی۔ تاہم موت کو پراسرار تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس درجہ کے پولیس افسران کے لیے سرکاری گاڑی مہیا کی جاتی ہے اور ایسے میں ان کا اس طرح دادر اور ماٹونگا ریلوے سٹیشن کے درمیان رات کے وقت پٹریوں کے درمیان پایا جانا شک پیدا کرتا ہے۔ شک کی دوسری وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اے ایس پی اس وقت بم دھماکوں کے انتہائی حساس معاملات کی تفتیش کر رہے تھے۔ اے ٹی ایس میں عہدہ حاصل کرنے سے قبل بھٹ ٹاڈا سیل کے انچارج تھے۔ |
اسی بارے میں بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو27 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||